رواں سال کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں سال 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) کے مطابق مہم کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ …

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں سال 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) کے مطابق مہم کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ وزارت صحت کےحکام کے مطابق بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدگی سے ویکسینیشن مہمات چلائی جا رہی ہیں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ فیلڈ ٹیموں کی تربیت، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور حساس علاقوں میں خصوصی مہمات کے انعقاد پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔نیشنل ای او سی کے مطابق صوبہ پنجاب میں 2 کروڑ 29 لاکھ سے زائد، سندھ میں 1 کروڑ 5 لاکھ سے زائد، خیبر پختونخوا میں 71 لاکھ 30 ہزار سے زائد، بلوچستان میں 23 لاکھ 63 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

اسی طرح اسلام آباد میں 4 لاکھ 55 ہزار سے زائد، گلگت بلتستان میں تقریباً 2 لاکھ 61 ہزار جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں 6 لاکھ 73 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس کی بروقت نشاندہی کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنایا گیا ہے جبکہ ماحولیاتی نمونوں کی جانچ کے ذریعے بھی وائرس کی موجودگی کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔

سرحدی علاقوں اور نقل و حرکت والے مقامات پر بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق سال 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت منعقد کی گئی، جس کا مقصد خطے سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ انسدادِ پولیو مہمات کے دوران اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ ملک کو اس موذی مرض سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔