ایران جنگ اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو فوری معاشی ہنگامی منصوبہ بنانا ہوگا،افتخار علی ملک

لاہور۔8مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ امریکا،اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ایک جامع معاشی ہنگامی منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو اپنے معاشی وسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے …

لاہور۔8مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ امریکا،اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ایک جامع معاشی ہنگامی منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو اپنے معاشی وسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ ممکنہ جنگی اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطی میں عدم استحکام کے باعث پاکستان کی معیشت کو برآمدات، ترسیلاتِ زر اور توانائی کی درآمدات کے حوالے سے شدید دبائو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں گزشتہ ہفتے کے دوران17 فیصد جبکہ ایل این جی کی قیمتوں میں68 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس سے پاکستان کے درآمدی بل اور کرنٹ اکائونٹ پر دبائو بڑھے گا۔انہوں نے کہاکہ تیل کی قیمت میں ہر10 ڈالر اضافے سے پاکستان کو سالانہ تقریبا 1.5 سے 2 ارب ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑتا ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ جنگ کے باعث بیرونی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ شپنگ اور انشورنس اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں، جبکہ خلیجی بندرگاہوں میں رکاوٹ کی صورت میں پاکستان کی برآمدات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معیشت کو ممکنہ بحران سے بچانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔