لاہور۔8مارچ (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ گلگت کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک مجوزہ نئے زمینی تجارتی کوریڈورز کے قیام سے خطے میں معاشی سرگرمیوں اور خوشحالی کے بے مثال مواقع پیدا ہوں گے، ان زمینی راہداریوں کے ذریعے پاکستان نہ صرف علاقائی تجارت کو فروغ دے سکے گا بلکہ اس سے ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ وہ اتوار کو …
گلگت کے ذریعے نیازمینی تجارتی راستہ پاکستانی معیشت کیلئے سنگِ میل ثابت ہوگا،سیف الرحمان

مزید خبریں
لاہور۔8مارچ (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ گلگت کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک مجوزہ نئے زمینی تجارتی کوریڈورز کے قیام سے خطے میں معاشی سرگرمیوں اور خوشحالی کے بے مثال مواقع پیدا ہوں گے، ان زمینی راہداریوں کے ذریعے پاکستان نہ صرف علاقائی تجارت کو فروغ دے سکے گا بلکہ اس سے ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ وہ اتوار کو یہاں برآمدکنندگان کے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے جس کی قیادت محمد سمیع احمد کر رہے تھے۔
سیف الرحمان نے کہا کہ اگر ان منصوبوں کو دوراندیش منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت عملی جامہ پہنایا جائے تو یہ راہداری منصوبے پائیدار ترقی کے لیے محرک ثابت ہو سکتے ہیں، اس طرح خطے میں رابطوں، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ زمینی تجارتی کوریڈورز مقامی کاروباری افراد اور صنعتکاروں کو بھی بااختیار بنائیں گے کیونکہ انہیں علاقائی اور عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔
سیف الرحمان نے مزید کہا کہ گلگت اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث شمالی پاکستان میں علاقائی رابطوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، یہ علاقہ بلند و بالا پہاڑوں کا دروازہ ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کے مختلف ممالک کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر یہاں سے تجارتی راہداری قائم کی جاتی ہے تو اس سے ملکی منڈیوں کو ہمسایہ ممالک سے جوڑنے میں مدد ملے گی،
جس کے نتیجے میں سامان کی ترسیل تیز، ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم اور پاکستانی برآمدات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت ان زمینی تجارتی راستوں کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کریں تو یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے اقتصادی ترقی و خوشحالی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔








