اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے خواتین کی مؤثر شرکت اور قیادت انتہائی ضروری ہے، حکومت کی موسمیاتی پالیسی خواتین کو موسمیاتی اقدامات، قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام اور مقامی برادریوں کی مضبوطی میں مرکزی کردار دینے …
پاکستان میں موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے لیے خواتین کی قیادت ناگزیر ہے ، سلیم شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے خواتین کی مؤثر شرکت اور قیادت انتہائی ضروری ہے، حکومت کی موسمیاتی پالیسی خواتین کو موسمیاتی اقدامات، قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام اور مقامی برادریوں کی مضبوطی میں مرکزی کردار دینے پر زور دیتی ہے۔اتوار کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں اور پانی کی قلت جیسے بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، اس لیے موسمیاتی حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی میں خواتین کی شرکت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا موسمیاتی لچک پیدا کرنے، پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور ملک بھر کی برادریوں کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے،اقوام متحدہ کی جانب سے اس سال عالمی یومِ خواتین کا موضوع “حقوق، انصاف اور عمل — تمام خواتین اور بچیوں کے لیے” مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین کے خلاف امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے، انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے اور صنفی مساوات سے متعلق عالمی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ رواں سال کی عالمی مہم کا موضوع “دینے سے حاصل کرنا” رکھا گیا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ خواتین کو تعلیم، قیادت اور معاشی مواقع فراہم کرنے سے پورے معاشرے کو فائدہ پہنچتا ہے۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ یہ تصور ہماری معاشرتی اقدار سے بھی ہم آہنگ ہے۔جب آپ تعلیم کے لیے زمین دیتے ہیں تو ایک تعلیم یافتہ نسل حاصل کرتے ہیں، جب اعتماد دیتے ہیں تو وفاداری حاصل ہوتی ہے اور جب مواقع دیتے ہیں تو تبدیلی جنم لیتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم خواتین کو موسمیاتی فیصلہ سازی میں مؤثر جگہ دیں گے تو ہمیں زیادہ جامع اور مؤثر پالیسیاں حاصل ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مختلف طبقات پر مختلف انداز سے پڑتے ہیں اور دیہی علاقوں کی خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ وہ زراعت، جنگلات اور مویشی پالنے جیسے موسمیاتی حساس شعبوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے لیے صنفی عملی منصوبہ پر بھی عملدرآمد کر رہی ہے جس کا مقصد خواتین کو موسمیاتی پالیسی سازی اور ماحولیاتی فیصلوں میں مؤثر کردار دینا ہے۔
یہ منصوبہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے قدرت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اتحاد پاکستان کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین مقامی ماحول، زرعی طریقوں اور آبی وسائل کے بارے میں قیمتی علم رکھتی ہیں جو موسمیاتی موافقت کی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری، صحت کی سہولیات اور ہنرمندی کے فروغ کے ذریعے موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف انصاف کا تقاضا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے حصول میں ایک اہم سرمایہ کاری بھی ہے۔








