بھارت کی سندھ طاس معاہدہ سے روگردانی کی کوشش بے معنی، معاہدہ کے تحفظ کیلئے سفارتی حل ضروری ہے، ماحولیاتی ماہرعافیہ سلام

اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):ماحولیاتی ماہر اور پالیسی تجزیہ کار عافیہ سلام نے سندھ طاس معاہدہ (IWT) کو زیر التوا رکھنے کے اقدامات کو قانونی طور پر بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ میں کسی بھی فریق کی طرف سے یکطرفہ معطلی کی اجازت کی کوئی شق بھی شامل نہیں ہے۔ " اے پی پی" کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ …

اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):ماحولیاتی ماہر اور پالیسی تجزیہ کار عافیہ سلام نے سندھ طاس معاہدہ (IWT) کو زیر التوا رکھنے کے اقدامات کو قانونی طور پر بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ میں کسی بھی فریق کی طرف سے یکطرفہ معطلی کی اجازت کی کوئی شق بھی شامل نہیں ہے۔

” اے پی پی” کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ یک طرفہ کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا لہذا بھارتی بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ سے ہٹ کر بھی بین الاقوامی پانیوں کو کنٹرول کرنے والے متعدد عالمی اصول و ضوابط واضح طور پر دریا کی نچلی جانب والی ریاستوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔

حالیہ پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے عافیہ سلام نے کہا کہ اب تک کی اہم پیش رفت بین الاقوامی فورمز پر دیا جانے والا ردعمل ہے، جہاں پر بھارتی موقف کو "غیر ضروری اور غیر قانونی” قرار دیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے موقف کی توثیق ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آبی وسائل کے معقول استعمال، تحفظ کے مستحکم اقدامات اور فطرت پر مبنی حل کے ذریعے پانی کے ذخیرہ میں اضافہ کی وکالت کرتے ہوئے مختلف پلیٹ فارمز پر اس مسئلے کو مسلسل اٹھایا ہے۔ انہوں نے سفارتی مصروفیات کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مواصلات کے ذرائع کھلے رہنے چاہئیں اور پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ رابطے جاری رکھنے چاہئیں۔ عافیہ سلام نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کوسرحد پار سے نکاسی آب سے متعلق ماحولیاتی خدشات کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی کوششیں جاری رکھتے ہوئے پاکستان کوپانی کی طویل مدتی لچک کو محفوظ بنانے کے لیے پانی کے اندرون ملک انتظام، تحفظ کے طریقوں اور پائیدار ذخیرہ کرنے کی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔