فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کے کردار کے موضوع پر سیمینار، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ،ترجمان دفتر خارج ، حریت رہنمائوں نے خطاب کیا

فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام اسلام آباد میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کے کردار کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمنار سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون،دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی، حریت رہنما شیخ عبدالمتین حریت کانفرنس رہنما محمد فاروق رحمانی، سابق ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار، ڈاکٹر سویرا پرکاش، ڈاکٹر ثنا سمیع، سدرا سدوزئی ایڈووکیٹ، مسلم …

اسلام آباد۔9مارچ (اے پی پی):فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام اسلام آباد میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کے کردار کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمنار سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون،دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی، حریت رہنما شیخ عبدالمتین حریت کانفرنس رہنما محمد فاروق رحمانی، سابق ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار، ڈاکٹر سویرا پرکاش، ڈاکٹر ثنا سمیع، سدرا سدوزئی ایڈووکیٹ، مسلم لیگ ن اسلام آباد کے لعل حسین راجپوت، انسانی حقوق کے کارکن ڈاکٹر خالد آفتاب سلہریا، حریت رہنما محمد شفیع ڈار، زاہد اشرف ،مہوش بیگ، سمیرا قریشی ایڈووکیٹ نے اظہار خیال کیا۔

سیمینار میں تحریک آزادی میں خواتین کے کردار کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سےہمیں یاسین ملک و دیگر کے ساتھ ساتھ آسیہ اندرابی ،ناہید نسرین،فہمیدہ صوفی کی بھی بات کرنی چاہیے ،خواتین کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی،آج دیکھیں غزہ میں خواتین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

ایران میں بمباری میں سکول کی 180 بچیوں کو شہید کر دیا گیا،کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں ، انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت آزادی کی تحریکیں دہشتگردی نہیں ہوتی، غزہ اور کشمیر ایک جیسے ہیں،خواتین کی مخصوص نشستیں ہیں مگر جنرل نشستوں پر بھی کوٹہ مختص کیا جانا چاہیے،تحریک پاکستان سے لے کر تکمیل پاکستان تک خواتین کا اہم کردار ہے، الحاق کشمیر تک پاکستان مکمل نہیں ہو سکتا ۔ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کا دل کشمیر کاز کے لیے دھڑکتا ہے،بحثیت کشمیری اور پاکستانی ہم کشمیر کے لیے یکجان ہیں،دفتر خارجہ کی کشمیری خواتین کے حوالے سے کاوشیں رہی ہیں،خواتین خاموشی سے مشکلات برداشت کر رہی ہوتی ہیں ۔

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں خواتین کے حوالے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی،ہماری کوشش رہی کہ ان حقوق کی پامالیوں کا ذکر ہوتا رہے،انسانی حقوق کمیشن کی کشمیر کے حوالے سے رپورٹ جاری ہوئی،کشمیری خواتین کے ساتھ جو ظلم ہوا اسکا ذکر ہوتا رہا،کنن پوش پورہ میں جو خواتین کے ساتھ ظلم ہوا وہ ہمارے سامنے موجود ہے،کشمیر میں جو خواتین متاثر ہوئی ان کو کوئی انصاف نہیں مل سکا،جلیل اندرابی کی فیملی نے بھی بہت مشکلات برداشت کی۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ظلم کا یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے،آسیہ اندرابی اور دیگر نے انسانی حقوق کے حوالے سے جدوجہد کی۔آسیہ اندرابی پچھلے 24 سال سے قید ہیں،بحثیت دفتر خارجہ ہم اقوام متحدہ سمیت دیگر جگہوں پر ان ایشوز کو اٹھاتے ہیں،اقوام متحدہ میں بھارت اس حوالے سے اپنی رپورٹ جمع کرواتا ہے،بھارت سے انسانی حقوق کے معاملے پر جواب دہی ہوتی ہے۔کشمیر کو نیوکلئیر فلیش پوائنٹ کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ دفتر خارجہ اجاگر کرتا رہے گا، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی مظلوم خواتین کو ہم بھولے نہیں ہیں،کشمیر کاز کا ایک خاص مذہبی اور تاریخی پس منظر ہے۔عبدالحمید لون وائس چیئرمین فرینڈز آف کشمیر نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں سب سے زیادہ خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین سمیت چالیس کشمیری خواتین بھارتی جیلوں میں قید ہیں،کشمیری خواتین بھارتی فوجیوں کی طرف سے پیدا کردہ خوف اور دہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔1989 سے اب تک 12ہزار سے زائد کشمیری خواتین بھارتی افواج کی درندگی کا شکار ہو چکی ہیں۔

بھارتی فوجی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں خواتین پر تشدد اور ان کے جنسی استحصال کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔قابض بھارتی افواج کی جانب سے کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری بنا خوف و خطر کی جاتی ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں نافذ کردہ سیاہ قوانین قابض افواج کے جرائم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔کشمیری خواتین کی عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے لرزہ خیز واقعات پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے ۔ بدقسمتی سے بھارت کو عالمی قوانین کا کوئی پاس نہیں ہے ۔ 23ہزار سے زائد کشمیری خواتین بیوہ ہو چکی ہیں اور ہزاروں خواتین ’’نیم بیوہ‘‘ کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کہاکشمیر کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں جنہوں نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ مثال کے طور پر کنن پوش پورہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے کشمیری خواتین آج بھی درد اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کرتی ہیں۔

یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔شیخ عبدالمتین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جب دنیا عالمی حقوق نسواں منا رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ کشمیر کی خواتین کی قربانیوں کو بھی یاد رکھا جائے۔ کشمیر کی بیٹیاں، مائیں اور بہنیں صرف ایک تنازعے کا شکار نہیں بلکہ وہ صبر، استقامت اور مزاحمت کی ایک زندہ مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج میں اس فورم سے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کب تک کشمیری خواتین کے آنسو نظر انداز کیے جائیں گے؟

کب تک انصاف کے تقاضوں کو ٹالا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق اور انصاف پر یقین رکھتی ہے تو اسے کشمیر کی خواتین کی آواز سننی ہوگی اور اس مسئلے کے حل کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ کشمیر کی خواتین نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ظلم کی رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، آزادی کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب اس عزم کے ساتھ اٹھیں کہ ہم کشمیری خواتین کی آواز کو دنیا کے ہر فورم تک پہنچائیں گے، کیونکہ جب کسی قوم کی مائیں اور بیٹیاں بیدار ہو جائیں تو آزادی کی شمع کبھی بجھ نہیں سکتی۔