اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے حکومت پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پس منظر میں پاکستان میں رئیل سٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فعال پالیسیاں اپنائی جائیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات کی پیشکش کی جائے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے رئیل سٹیٹ سیکٹر میں پرکشش مراعات کا اعلان کیا جائے، مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کار پاکستان کے رئیل سٹیٹ سیکٹر کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔10مارچ (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے حکومت پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پس منظر میں پاکستان میں رئیل سٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فعال پالیسیاں اپنائی جائیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات کی پیشکش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال نے خطے میں سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس سے پاکستان کو بالخصوص رئیل سٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور منافع بخش مقام کے طور پر اپنی جگہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔
سردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ رئیل سٹیٹ سیکٹر پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ 40 سے زائد متعلقہ صنعتوں کو چلاتا ہے جن میں سیمنٹ، سٹیل، ٹائلز، برقی آلات، شیشہ، پینٹ، سینیٹری فٹنگ، ٹرانسپورٹ، آرکیٹیکچر، انجینئرنگ اور انٹیریئر ڈیزائن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو مضبوط کرنے سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ معیشت کے متعدد شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور مکانات کی بڑھتی ہوئی طلب ملک کو ہاؤسنگ، کمرشل انفراسٹرکچر اور مخلوط استعمال کے ترقیاتی منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بناتی ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رئیل سٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے سے معاشی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوگا، ٹیکس کی بنیاد وسیع ہو گی اور معاشی استحکام میں اضافہ ہو گا۔آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کار دوست اقدامات متعارف کرائے، جس میں ٹیکس مراعات، آسان دستاویزات، جائیداد کے حقوق کا تحفظ، شفاف ریگولیٹری میکانزم اور ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ رئیل سٹیٹ سیکٹر کو سہولت فراہم کرنے سے تعمیراتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، تعمیراتی مواد کی طلب میں اضافہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حمایت اور انجینئرز، آرکیٹیکٹس، کنٹریکٹرز، ہنر مند مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے معیشت میں ایک سلسلہ وار مثبت رد عمل شروع ہو گا۔
سردار طاہر محمود نے یہ بھی سفارش کی کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں بالخصوص مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری پیکج شروع کرے تاکہ وہ پاکستان میں ہاؤسنگ پراجیکٹس، جدید شہری انفراسٹرکچر اور کمرشل رئیل سٹیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ رئیل سٹیٹ سیکٹر کی بحالی اور فروغ معاشی ترقی کے ایک طاقتور انجن کے طور پر کام کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، روزگار کے مواقع بڑھانے اور اقتصادی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی حکومت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جائے جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو سپورٹ کریں اور پاکستان میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کریں۔








