قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس ،وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے علاقائی بحران سے نمٹنے کا جائزہ پیش کیا

اسلام آباد۔10مارچ (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس منگل کو یہاں رکن قومی اسمبلی این اے سید رفیع اللہ کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں علاقائی بحران کے دوران پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کے انخلاء سے متعلق بریفنگ پر غور کیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ جاری پریس ریلیز کے مطابق وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے …

اسلام آباد۔10مارچ (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس منگل کو یہاں رکن قومی اسمبلی این اے سید رفیع اللہ کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں علاقائی بحران کے دوران پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کے انخلاء سے متعلق بریفنگ پر غور کیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ جاری پریس ریلیز کے مطابق وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے بحران کےحوالہ سے صورتحال سے نمٹنے کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کرائسز مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو) کو فعال کر دیا گیا ہے۔ مشنز نے خصوصی سہولت کاری ڈیسک، رجسٹریشن پورٹل اور ہیلپ لائنز قائم کی ہیں اور ایپس اور روزانہ ڈیٹا فیڈز کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انخلاء کے چینلز متعدد زمینی داخلے کے مقامات (میرجاویہ – تفتان؛ گبد – رمدان؛ استارا – آذربائیجان) کے ذریعے کام کر رہے ہیں جبکہ میزبان حکومتوں کے ساتھ تعاون سے ویزا کی سہولت، عارضی رہائش اور ٹرانزٹ سپورٹ کو فعال کیا ہے۔ وزارت نے تصدیق کی کہ بریفنگ کے وقت تک ہزاروں پاکستانیوں کو زمینی و فضائی ذریعے سے باہر جانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ سرحدی گزرگاہیں انخلاء کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ اراکین نے خلیج کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز (سی ڈبلیو اے) کی جانب سے پریزینٹیشن کا جائزہ لیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قطر میں مشن نے 10,000 سے زیادہ رجسٹریشنز ریکارڈ کیں جبکہ متحدہ عرب امارات میں مشن نے 8,500 سے زیادہ رجسٹریشن کا بتایا جن میں 4543 پاکستانی راستے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 4400 افراد 40 کمرشل پروازوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے روانہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشن اور سی ڈبلیو ایز رہائش، کھانا اور ہنگامی ویزا کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ٹیمیں زمینی بارڈر ٹرانزٹ پوائنٹس پر تعینات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پروازیں کم گنجائش پر چل رہی ہیں جبکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے کم آمدنی والے مسافروں اور عمرہ زائرین کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اراکین نے بحران کے دوران کمرشل پروازوں کے کرایوں میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایئر لائنز کے ساتھ ہنگامی انتظامات تلاش کرے، بشمول قومی کیریئر، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یا چارٹر آپشنز کا جائزہ لے تاکہ مشکلات کا سامنا کرنے والے شہریوں کے لئے سستی اور بروقت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے اجلاس میں خصوصی طور پر مدعو کردہ سابق رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر کو بھی سنا جنہیں حال ہی میں قطر کے بحران کے دوران سفری خلل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اراکین کمیٹی نے مشکل حالات میں کام کرنے والے سفارتی عملے اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسی طرح کی ہنگامی صورتحال کے لئے مضبوط ادارہ جاتی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے سفیروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں سے ملیں اور ان کے مسائل حل کریں۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ مستقبل کے بحرانوں کے لیئے ایک جامع انخلاء کا فریم ورک اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس ا و پیز) تیار کرے اور جمع کرائے، مزید برآں اس میں ایئر لائنز، میزبان حکومتوں اور سرحدی حکام کے ساتھ کوآرڈینیشن میکانزم بھی شامل ہو۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو،ذوالفقار علی بھٹی، صوفیہ سعید شاہ، ماہ جبین خان عباسی، سعیدہ جمشید، فرحان چشتی، میاں خان بگٹی، فتح اللہ خان اور محمد الیاس چوہدری سمیت وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔