عالمی برادری افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے پر دوبارہ توجہ دے ، ممتاز زہرہ بلوچ

پیرس۔10مارچ (اے پی پی):فرانس میں پاکستان کی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے پر دوبارہ توجہ دے اور خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ خطے سے باہر دیگر ممالک کو بھی متاثر کرے گا۔میگزین اوپینین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ممتاز زہرہ بلوچ نے واضح …

پیرس۔10مارچ (اے پی پی):فرانس میں پاکستان کی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے پر دوبارہ توجہ دے اور خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ خطے سے باہر دیگر ممالک کو بھی متاثر کرے گا۔میگزین اوپینین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ممتاز زہرہ بلوچ نے واضح کیا کہ افغانستان کے اندر حالیہ فوجی کارروائیاں کوئی حملہ نہیں تھیں بلکہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایک مخصوص آپریشن تھا۔انہوں نے بتایا کہ 28 فروری کو کی گئی کارروائی دراصل سرحد پار دہشت گردوں کی دراندازی کے جواب میں کی گئی جس کے نتیجے میں پاکستانی فوجی شہید ہوئے ۔سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے واضح کیا کہ پاکستان عرصہ دراز سے طالبان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کرتاآرہا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم گروہوں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر کے خلاف کارروائی کرے لیکن ہمارے ان مطالبات کو نظر انداز کیا گیا اور ان گروہوں کو تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے سفیر نے واضح کیا کہ کوئی سرحدی تنازعہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ سرحد اقوام متحدہ کے اصولوں کے تحت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے نہیں بلکہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے مسئلہ ہے، جبکہ پاکستان اور افغان عوام کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات موجود ہیں۔طالبان کے ساتھ نظریاتی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان اپنے آئینی نظام کا پابند ہے جہاں خواتین کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے افغان خواتین کی مدد کے لیے پاکستان کے اقدامات کا ذکر کیا، جن میں افغان طالبات کے لیے اسکالرشپس شامل ہیں تاکہ وہ کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ پاکستان آ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی سربراہی میں چلنے والے افغان کاروباروں کو پاکستان میں ڈیوٹی فری تجارت کی سہولت بھی دی جا رہی ہے۔خطے میں وسیع تر تنازعے کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے واضح مؤقف کو دہرایا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایران پر کسی بھی حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا اور اس سے کثیرالجہتی نظام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عالمی برادری کی توجہ افغانستان سے ہٹ گئی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی کو بڑھنے کا موقع ملا اور اب یہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔