اقوام متحدہ۔11مارچ (اے پی پی):پاکستان نے شام کے بعض حصوں میں غیر ملکی فوجی قبضے ، فضائی حملوں اور دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ملک میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ …
پاکستان کا شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن پر عملدرآمد کے عزم کا خیرمقدم

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔11مارچ (اے پی پی):پاکستان نے شام کے بعض حصوں میں غیر ملکی فوجی قبضے ، فضائی حملوں اور دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ملک میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی شام کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہے اور اس سے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کی تصدیقی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے شامی حکام کے اس عزم کو سراہا کہ وہ مکمل طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن (سی ڈبلیوسی ) پر عمل درآمد کریں گے اور مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے مقامات کو محفوظ بنانے اور باقی مسائل حل کرنے میں تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ او پی سی ڈبلیو کے ٹیکنیکل سیکرٹریٹ کو آزادانہ تصدیق کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ شامی حکام کی صلاحیتوں میں اضافہ او پی سی ڈبلیو کے کام خاص طور پر اعلان، تحقیقات، تجزیے اور تصدیق کو تیز کرے گا ۔پاکستانی مندوب نے امید ظاہر کی کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ اور شامی حکام کے درمیان مسلسل رابطے سے تمام مسائل جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے شام کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مفاہمت، بحالی، امن اور استحکام کے لیے اہم مواقع پیدا ہو چکے ہیں، جنہیں جامع سیاسی عمل اور عالمی تعاون کے ذریعے عملی پیش رفت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
او پی سی ڈبلیو کی تازہ رپورٹ کے مطابق شام میں اعلان کردہ 26 مقامات کے علاوہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 100 سے زیادہ دیگر مقامات بھی سابق حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں، جن کا معائنہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ 2025 میں او پی سی ڈبلیو کی ٹیموں کے دوروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق کم از کم دو مقامات ایسے ہیں جو کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت قابلِ اعلان ہو سکتے ہیں۔ تاہم خطے میں جاری تنازع کی وجہ سے مزید دورے فی الحال روک دیئے گئے ہیں۔








