سعودی عرب نے سال 2026 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دے دیا

ریاض ۔12مارچ (اے پی پی):سعودی عرب نے سال 2026 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دے دیا ہے۔ یہ قدم تیزی سے ہوتی تکنیکی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سعودی "ویژن 2030" کے اہداف کے مطابق مملکت کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ یہ فیصلہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں منصوبہ بندی …

ریاض ۔12مارچ (اے پی پی):سعودی عرب نے سال 2026 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دے دیا ہے۔ یہ قدم تیزی سے ہوتی تکنیکی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سعودی "ویژن 2030” کے اہداف کے مطابق مملکت کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ یہ فیصلہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں منصوبہ بندی کے مرحلے سے عملی اطلاق کے مرحلے کی طرف منتقلی کی تصدیق کرتا ہے۔

یہ مرحلہ قومی پالیسیوں، سرمایہ کاری اور جدید تکنیکی ڈھانچے پر مشتمل ایک مربوط نظام کے ذریعے ممکن ہوگا۔واضح رہے حالیہ برسوں میں مملکت نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اشاریوں میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔ عالمی مصنوعی ذہانت انڈیکس 2025 میں سعودی عرب 14 ویں نمبر پر رہا۔ اسی طرح سعودی عرب نے ذہین ماڈلز کی تیاری اور تکنیکی اختراع میں عرب دنیا میں اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھی۔

یہ ترقی اس شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی عکاسی بھی کر رہی ہے کیونکہ مملکت میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی سرمایہ کاری 9.1 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ 2024 کے دوران ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر سرکاری اخراجات میں 56 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔