مقبوضہ جموں وکشمیر : فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ، بال بال بچ گئے،سابق وزیر اعلیٰ پر حملہ کرنے کا موقع گزشتہ 20برس سے تلاش کر رہا تھا

جموں۔12مارچ (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ۔ ان پر شادی کے ایک تقریب کے دوران نامعلوم مسلح شخص نے گولی چلادی۔ یہ واقعہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں مقامی سیاست دانوں کو فراہم کی جانے والی ناقص سیکورٹی کا واضح غماز ہے۔ کشمیر میڈیا …

جموں۔12مارچ (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ۔ ان پر شادی کے ایک تقریب کے دوران نامعلوم مسلح شخص نے گولی چلادی۔ یہ واقعہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں مقامی سیاست دانوں کو فراہم کی جانے والی ناقص سیکورٹی کا واضح غماز ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 88 سالہ فاروق عبدللہ جموں کے علاقے گریٹر کیلاش میں شادی کی تقریب میں شریک تھے کہ پستول سے لیس ایک شخص ان کے قریب پہنچ کر گولی چلانے میں کامیاب ہو گیا تاہم گولی نشانے پر نہیں لگی ۔ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ یہ حملہ جان لیوا بھی ہو سکتا تھا۔حملہ آور کی شناخت کمل سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے جسے جائے وقوعہ پر فوری طور پر پستول سمیت حراست میں لیاگیا اور اس سے تفتیش کاعمل جاری ہے۔62سالہ کمل سنگھ جموال نے بعد ازاں انکشاف کیا کہ وہ فاروق عبداللہ پر حملہ کرنے کا موقع گزشتہ 20برس سے تلاش کر رہا تھا ۔

وہ نیشنل کانفرنس کے صدر کی میزبانی کرنے والے خاندان کا رشتہ دار بتایا جارہا ہے ۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جموال شوٹنگ کے وقت نشے میں تھا۔شادی کی تقریب میں فاروق عبداللہ کے علاوہ مقبوضہ علاقے کے نائب وزیر اعلی سریندر چودھری سمیت کئی سیاسی شخصیات موجود تھیں۔

فائرنگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا تاہم اس واقعہ سے تقریب میں موجود مہمانوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور فاروق عبداللہ کے بیٹے عمر عبداللہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ حملہ آور زیڈ پلس سیکورٹی کور کے باوجود ان کے اتنے قریب پہنچنے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔