پاکستان کوجاری مالی سال کے دوران مجموعی طورپر5.170ارب ڈالرکی مالی معاونت موصول

پاکستان کوجاری مالی سال کے دوران دوطرفہ،کثیرجہتی شراکت داروں اور دیگر ذرائع سےمجموعی طورپر5.170ارب ڈالرکی مالی معاونت موصول ہوئی ہے۔

اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):پاکستان کوجاری مالی سال کے دوران دوطرفہ،کثیرجہتی شراکت داروں اور دیگر ذرائع سےمجموعی طورپر5.170ارب ڈالرکی مالی معاونت موصول ہوئی ہے۔وزارت اقتصادی امورکے اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 7ماہ میں دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کومجموعی طورپر931.88ملین ڈالرکی مالی معاونت موصول ہوئی جن میں سے 33.24ملین ڈالرگرانٹس اور898.64ملین ڈالرقرضوں کی صورت میں ہے،مالی سال کے پہلے 7ماہ میں دوطرفہ شراکت داروں میں سے چین کی جانب سے پاکستان کو72.28ملین ڈالر،ڈنمارک71.5ملین ڈالر،فرانس 26.3ملین ڈالر،جرمنی 5.45ملین ڈالر،جاپان 15.53ملین ڈالر،کوریا9.49ملین ڈالر،کویت 22.06ملین ڈالرسعودی عرب 708.70ملین ڈالراورامریکا کی جانب سے پاکستان کو0.49ملین ڈالرکی مالی معاونت موصول ہوئی۔ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں پاکستان کے ساتھ مالی معاونت کے حوالہ سے سعودی عرب اورچین سرفہرست ممالک رہے ہیں۔

جاری مالی سال کے پہلے 7ماہ میں چین کی جانب سے پاکستان کو269.42ملین ڈالرکی مالی گارنٹی بھی فراہم کی گئی ہے۔وزارت اقتصادی امورکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں کثیرجہتی شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کومجموعی طورپر2.126ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی گئی،کثیرجہتی شراکت داروں میں سے جاری مالی سال کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو624.59ملین ڈالر،ایشین انفراسٹرکچرانویسٹمنٹ بینک 72.95ملین ڈالر،آئی بی آرڈی 259ملین ڈالر،آئی ڈی اے 608.08ملین ڈالر،آئی بی ڈی 56.13ملین ڈالر،اسلامی ترقیاتی بینک(قلیل مدتی) 483.78ملین ڈالر، ایفاد21.39ملین ڈالر اوراوپیک فنڈ کی جانب سے پاکستان کو0.79ملین ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی گئی۔

کثیرجہتی شراکت داروں کی جانب سے مالی سال کے پہلے 7ماہ میں پاکستان کوگرانٹس کی صورت میں 33.97ملین ڈالر اورقرضوں کی صورت میں 2.092ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے دوران ایس سی بی لندن کی جانب سے پاکستان کو144.42ملین ڈالرکاکمرشل قرضہ جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے 209.51ملین ڈالرکی معاونت فراہم کی گئی،نیاپاکستان سرٹیفکیٹس کی صورت میں مزید 1.488ارب ڈالرکی معاونت حاصل کی گئی۔