وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے ایک زمانے میں علم، تحقیق اور سائنسی جستجو میں دنیا کی قیادت کی ،جس تہذیب نے کبھی علمی دنیا کی رہنمائی کی وہ آج اس حوالے سے دوسروں کی محتاج کیوں ہے، ہمیں اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے
جس تہذیب نے دنیا کی رہنمائی کی وہ آج دوسروں کی محتاج کیوں ، ہمیں اپنی عظیم علمی روایت کو زندہ کرنا ہوگا،پروفیسر احسن اقبال
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے ایک زمانے میں علم، تحقیق اور سائنسی جستجو میں دنیا کی قیادت کی ،جس تہذیب نے کبھی علمی دنیا کی رہنمائی کی وہ آج اس حوالے سے دوسروں کی محتاج کیوں ہے، ہمیں اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں محفلِ میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بغداد اور اندلس کے علمی مراکز، رصد گاہوں اور مسلم سائنس دانوں نے فلکیات، طب، ریاضی، کیمیا اور دیگر علوم میں تحقیق کی نئی راہیں کھولیں، مسلمانوں کی یہ علمی ترقی محض اتفاق نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی اس بنیادی دعوت سے جڑی ہوئی تھی جس میں انسان کو کائنات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ، عقل کا استعمال اور غور و فکر کرنے کی بار بار ترغیب دی گئی ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ آج کائنات کی ابتدا اور اس کے اسرار جاننے کے لیے جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ جیسے جدید سائنسی منصوبے انسانی جستجو، تحقیق اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی علامت ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری علمی و سائنسی روایت کہاں کمزور ہوئی اور ہم تحقیق و دریافت کے میدان میں پیچھے کیوں رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی علمی ترقی اسی قرآنی مزاج سے وابستہ تھی لیکن بدقسمتی سے آج ہماری تہذیب مشاہدے، تحقیق، غور و فکر اور علمی جستجو کی اسی روایت سے دور ہو چکی ہے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ وقت کا تقاضا ماضی پر صرف فخر کرنا نہیں بلکہ اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے، علم، تحقیق، عقل اور تخلیقی سوچ کو اجتماعی ترقی کا مرکز بنائے بغیر کوئی قوم پائیدار ترقی حاصل نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نئی نسل کو سوال کرنے، تحقیق کرنے، مشاہدہ کرنے اور کائنات کے اسرار جاننے کی ترغیب دینا ہوگی تاکہ مسلم دنیا دوبارہ علم و تحقیق کے میدان میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکے







