سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کی ملازمت پر کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بعد ازاں ریگولر کیے جانے کی صورت میں ان کی سابقہ مسلسل کنٹریکٹ سروس کو پنشن اور دیگر مالی فوائد کے لیے شمار کیا جا سکتا ہے
مستقل ملازمت پر کنٹریکٹ سروس بھی پنشن کے لیے شمار ہوگی، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کی ملازمت پر کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بعد ازاں ریگولر کیے جانے کی صورت میں ان کی سابقہ مسلسل کنٹریکٹ سروس کو پنشن اور دیگر مالی فوائد کے لیے شمار کیا جا سکتا ہے، محض کنٹریکٹ سروس کو نظرانداز کرکے پنشن سے محروم کرنا درست نہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دائر 20 سول پٹیشنز پر فیصلہ سنایا جسے جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ پنشن کوئی انعام، خیرات یا رعایت نہیں بلکہ ملازم کا حاصل شدہ حق ہے، جس کا مقصد ریٹائرمنٹ کے بعد عمر رسیدگی میں معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ کیس میں خواتین افسران کو پنجاب پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر 12 فروری 2010 کو سینئر ہیڈمسٹریس/ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) گریڈ 18 کی آسامیوں پر کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی خدمات 10 ستمبر 2011 سے ریگولر کردی گئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ جب ملازمین کو مستقل نوعیت کی آسامیوں پر کام جاری رکھنے دیا گیا اور بعد ازاں انہیں ریگولر بھی کردیا گیا تو سابقہ کنٹریکٹ سروس کو مکمل طور پر ضائع کرنا قانونی جواز کے بغیر ماضی کی سروس سے محرومی کے مترادف ہوگا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کسی ملازم کی طویل عرصے تک کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات لینے کے بعد یہ مؤقف اختیار نہیں کرسکتی کہ وہ پنشن کے لیے مطلوبہ سروس پوری نہیں کرتا۔ قانون کی تشریح انصاف کے تقاضوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ محض تکنیکی بنیادوں پر ملازم کے جائز حقوق سے انکار کے لیے۔سپریم کورٹ نے پنجاب سول سروسز پنشن رولز اور سول سروس ریگولیشنز کی متعلقہ شقوں کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مسلسل عارضی یا کنٹریکٹ سروس کے بعد ملازمت کی تصدیق یا ریگولرائزیشن کی صورت میں سابقہ سروس کو پنشن کے حساب میں شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔عدالت نے تاہم پنجاب سروس ٹربیونل کے اس حکم کو برقرار نہیں رکھا جس کے تحت متعلقہ ملازمین کی ابتدائی تقرری کی تاریخ 12 فروری 2010 قرار دیتے ہوئے سینیارٹی لسٹ اور سروس ریکارڈ میں بھی یہی تاریخ درج کرنے، سابقہ عرصے کے انکریمنٹس بحال کرنے اور سینیارٹی کے فوائد دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ سابقہ کنٹریکٹ سروس کو پنشن کے لیے شمار کرنا اور ریگولرائزیشن کی تاریخ کو ماضی سے مؤثر قرار دینا دو مختلف قانونی معاملات ہیں۔ سابقہ سروس کو پنشن کے لیے شمار کرنے کا اثر بنیادی طور پر ملازم اور ادارے کے درمیان ہوتا ہے، جبکہ سینیارٹی تبدیل کرنے سے دیگر ملازمین کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں، جنہیں سنے بغیر ان کی سینیارٹی متاثر نہیں کی جاسکتی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سرکاری اداروں کو مستقل نوعیت کی آسامیوں پر ملازمین کو غیر معینہ مدت تک کنٹریکٹ پر رکھنے کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے، کیونکہ طویل عرصے تک خدمات لینے کے بعد پنشن کے حق سے محروم کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھی مسلسل کنٹریکٹ سروس کو ریگولرائزیشن کے بعد مالی اور پنشنری فوائد کے لیے تسلیم کیے جانے کے اصول کی توثیق کی۔






