جنیوا ۔23مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ 2015 سے 2025 تک کا عرصہ ریکارڈ کی تاریخ کی گرم ترین دہائی رہا ہے، جس سے عالمی موسمیاتی بحران کی شدت مزید واضح ہو گئی ہے۔رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 1850 سے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد یہ مسلسل 11 سال (2015-2025) سب سے زیادہ گرم …
گزشتہ دہائی تاریخ کی گرم ترین قرار، عالمی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا، اقوام متحدہ کی رپورٹ

مزید خبریں
جنیوا ۔23مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ 2015 سے 2025 تک کا عرصہ ریکارڈ کی تاریخ کی گرم ترین دہائی رہا ہے، جس سے عالمی موسمیاتی بحران کی شدت مزید واضح ہو گئی ہے۔رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 1850 سے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد یہ مسلسل 11 سال (2015-2025) سب سے زیادہ گرم رہے، جبکہ سال 2025 کو تاریخ کا دوسرا یا تیسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے۔ اس دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.43 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2024 اب تک کا سب سے گرم سال رہا، جب عالمی درجہ حرارت تقریباً 1.55 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو خطرناک حد کے قریب ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی موسمیاتی صورتحال ہنگامی حالت اختیار کر چکی ہے اور زمین اپنی حدوں سے تجاوز کر رہی ہے، تمام اہم ماحولیاتی اشاریے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے، خصوصاً آئس لینڈ اور شمالی امریکہ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔واضح رہے کہ عالمی معاہدہ پیرس معاہدہ 2015 کے تحت ممالک نے درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا عہد کر رکھا ہے، تاہم موجودہ اعداد و شمار اس ہدف کے حصول کو مشکل ظاہر کر رہے ہیں۔








