اسلام آباد۔23مارچ (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو مہنگائی کے بڑے طوفان سے بچا لیا ہے۔ وزیراعظم نے اوگرا کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2 مرتبہ اضافے کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے تقریباً 70 ارب روپے کا بوجھ …
عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے کے باوجودوزیراعظم نے 70 ارب کا بوجھ حکومت پر منتقل کیا، بلال اظہر کیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23مارچ (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو مہنگائی کے بڑے طوفان سے بچا لیا ہے۔ وزیراعظم نے اوگرا کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2 مرتبہ اضافے کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے تقریباً 70 ارب روپے کا بوجھ حکومت پر منتقل کر دیا ہے۔پیر کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری جنگ کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں اور تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لیکن حکومت کی ترجیح عام شہری کو اس کے اثرات سے بچانا ہے۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے پہلے 24 ارب اور پھر 45 سے 50 ارب روپے کا بھاری خسارہ برداشت کیا ہے۔بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ ہائی اوکٹین کی قیمت میں اضافے سے حاصل ہونے والے 9 ارب روپے اسی خسارے کو کم کرنے اور عام آدمی کو فیول سبسڈی فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہائی اوکٹین صرف لگژری اور بڑی امپورٹڈ گاڑیوں (مرسڈیز، آڈی، بی ایم ڈبلیو) میں استعمال ہوتا ہے، اور جو باوسائل افراد کروڑوں کی گاڑیاں رکھ سکتے ہیں وہ یہ اضافی بوجھ بھی اٹھا سکتے ہیں۔حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم نے صرف عوام کو ریلیف ہی نہیں دیا بلکہ خود حکومت کے لیے بھی سخت فیصلے کیے ہیں۔ کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اب اگر کوئی سرکاری افسر اپنی گاڑی میں ہائی اوکٹین استعمال کرنا چاہے گا تو اسے اس کی قیمت اپنی جیب سے ادا کرنی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے پٹرولیم بحران سے نمٹنے کے لیے نہ صرف کمیٹی تشکیل دی ہے بلکہ کفایت شعاری مہم کے تحت 60 فیصد سرکاری گاڑیاں فوراً گراؤنڈ کرنے (استعمال روکنے) اور تمام محکموں کے فیول کوٹہ میں 50 فیصد کٹوتی کا حکم بھی دیا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد قومی وسائل کا رخ اشرافیہ کے بجائے براہِ راست عوام کی ریلیف کی طرف موڑنا ہے تاکہ موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والا طبقہ متاثر نہ ہو۔








