توہینِ عدالت کی کارروائی میں ابتدائی سماعت کے بغیر فردِ جرم عائد کرنے کا عمل قانون کے خلاف ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ توہینِ عدالت کی کارروائی میں ابتدائی سماعت کا موقع دینا لازمی ہے اور اس کے بغیر فردِ جرم عائد کرنے کا عمل قانون کے خلاف ہے، عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ احکامات کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایاجس میں جسٹس …

اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ توہینِ عدالت کی کارروائی میں ابتدائی سماعت کا موقع دینا لازمی ہے اور اس کے بغیر فردِ جرم عائد کرنے کا عمل قانون کے خلاف ہے، عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ احکامات کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایاجس میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عقیل احمد عباسی بھی شامل تھے۔ عدالت نے کریمنل اپیل نمبر 10-K آف 2024 میں کیس کی سماعت 18 جولائی 2025 کو کی تھی ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت کے روبرو مقدمہ اپیل کنندہ حرا رؤف کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کی کارروائی میں Contempt of Court Ordinance, 2003 کی دفعہ 17(3) کی درست تشریح نہیں کی اور ابتدائی سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی۔سماعت کے دوران فریقین کے وکلاء نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے قبل کوئی ابتدائی سماعت نہیں کی گئی جو کہ قانونی تقاضہ ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دفعہ 17(3) کے تحت عدالت پر لازم ہے کہ مبینہ توہین کرنے والے کو ابتدائی سماعت کا موقع دیا جائے اور اگر عدالت مطمئن ہو کہ بادی النظر میں کیس بنتا ہے، تب ہی فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس میں یہ بنیادی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا، جو ایک واضح قانونی خامی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے 30 اکتوبر 2024 اور 19 نومبر 2024 کے احکامات کو توہینِ عدالت کی حد تک کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ توہینِ عدالت کی درخواست بدستور زیرِ التوا رہے گی اور اگر متعلقہ عدالت کارروائی آگے بڑھانا چاہے تو پہلے قانون کے مطابق ابتدائی سماعت کا موقع فراہم کرے اور پھر یہ طے کرے کہ آیا بادی النظر میں توہینِ عدالت کا کیس بنتا ہے یا نہیں۔عدالت نے اپیل کو مذکورہ شرائط کے ساتھ منظور کر لیا۔