سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خاتون کا قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے نکاح ختم کرانے کا فیصلہ اس کا قانونی حق ہے اور اس حق کے استعمال پر تشدد آئینی نظام کی روح کے منافی ہے۔ عدالت نے سابق اہلیہ کو نکاح ختم کرنے کی عدالتی ڈگری ملنے کے صرف دو روز بعد قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے جیل پٹیشن مسترد کردی۔
سپریم کورٹ کا سابق اہلیہ کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خاتون کا قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے نکاح ختم کرانے کا فیصلہ اس کا قانونی حق ہے اور اس حق کے استعمال پر تشدد آئینی نظام کی روح کے منافی ہے۔ عدالت نے سابق اہلیہ کو نکاح ختم کرنے کی عدالتی ڈگری ملنے کے صرف دو روز بعد قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے جیل پٹیشن مسترد کردی۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جیل پٹیشن نمبر 617/2025 پر فیصلہ سنایا ۔ عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں قرار دیا کہ ملزم وسیم عباس نے اپنی سابق اہلیہ شہناز بی بی کو انتہائی سفاکانہ طریقے سے اور منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا۔ مقتولہ نے ملزم کے خلاف نکاح ختم کرنے کا مقدمہ دائر کیا تھا اور فیملی کورٹ نے 9 اکتوبر 2020 کو اس کے حق میں یکطرفہ ڈگری جاری کی، جس کے دو روز بعد 11 اکتوبر کو ملزم نے ساتھیوں سمیت مقتولہ کے والدین کے گھر میں داخل ہو کر اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ واقعہ دن کے وقت پیش آیا اور عینی شاہدین نے ملزم کو واضح طور پر دیکھا، جبکہ وہ مقتولہ کا سابق شوہر ہونے کے باعث گواہوں کے لیے قابل شناخت تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقتولہ کے قریبی رشتہ دار ہونے کی بنیاد پر عینی شاہدین کی گواہی مسترد نہیں کی جاسکتی، کیونکہ گھریلو حدود میں ہونے والے جرائم میں اہل خانہ اکثر قدرتی گواہ ہوتے ہیں۔عدالت کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد ہوا جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خولوں کا فرانزک معائنہ بھی کیا گیا، جو برآمد شدہ پستول سے مطابقت رکھتے تھے۔ طبی شہادت اور مقتولہ کی جانب سے واقعے سے کچھ ہی عرصہ قبل حاصل کی گئی عدالتی ڈگری بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقتولہ نے تحلیلِ نکاح ایکٹ 1939 اور مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت اپنا قانونی حق استعمال کیا تھا۔ آئین کے آرٹیکلز 9، 14 اور 25 کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی زندگی، عزت اور مساوی سلوک کے حقوق کا تحفظ کرے۔فیصلے میں سابق عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جو خاتون مناسب عدالتی طریقہ کار کے ذریعے نکاح ختم کرانے کی خواہش ظاہر کرتی ہے، وہ اپنا قانونی و بنیادی حق استعمال کررہی ہوتی ہے اور اس حق کے استعمال پر اس کے خلاف تشدد آئینی نظام کی روح کے منافی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں سزائے موت میں کمی کے لیے کوئی تخفیفی یا نرم کرنے والا پہلو موجود نہیں۔ ملزم نے سابق بیوی کو اس وقت قتل کیا جب وہ عدالتی طور پر نکاح ختم کرنے کا حق حاصل کرچکی تھی، اس لیے جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلے ریکارڈ پر موجود شواہد کی درست جانچ پڑتال پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی قانونی یا شواہد سے متعلق خامی نہیں۔ عدالت نے سزائے موت کے خلاف جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کی جانب سے عائد سزائے موت برقرار رکھی۔








