عدالت نے چار سال سے لاپتہ لڑکی کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی

لاہور۔24مارچ (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے چار سال سے لاپتہ لڑکی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست آئی جی پنجاب پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں نمٹا دی۔منگل کو سماعت پر عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب پولیس عبد الکریم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مقدس بی بی کو 2022 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ آئی جی پنجاب کے مطابق بچی …

لاہور۔24مارچ (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے چار سال سے لاپتہ لڑکی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست آئی جی پنجاب پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں نمٹا دی۔منگل کو سماعت پر عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب پولیس عبد الکریم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مقدس بی بی کو 2022 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ آئی جی پنجاب کے مطابق بچی جس گھر میں ملازمہ تھی، اس کے مالک کے داماد کا ریمانڈ حاصل کیا گیا، جبکہ سی ڈی آر کے ذریعے ملزم محسن سے رابطوں کا سراغ ملا۔ آئی جی نے بتایا کہ ملزم محسن اس وقت جسمانی ریمانڈ پر ہے اور اس نے اعتراف کیا ہے کہ بچی کو قتل کر کے لاش نالے میں پھینک دی تھی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آیا بچی کی لاش کسی تھانے نے امانتا دفنا دی تھی اور اس کیس کو ثابت کرنے میں چار سال کیوں لگے۔

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے تفتیشی نظام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایسے تفتیشی افسران کو کیس کیوں دیے جاتے ہیں جو سالہا سال لگا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اغوا کے کیسز میں اکثر تفتیشی افسران کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ بچی خود چلی گئی ہوگی، جو قابل قبول نہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ محنتی اور قابل افسران کو تعینات کیا جائے اور تفتیشی افسران کا سابقہ ریکارڈ دیکھ کر کیس سونپے جائیں۔دریں اثناپیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس عبد الکریم نے کہا کہ کیس اب چالان کی صورت میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں جس پولیس افسر کی نااہلی ثابت ہوئی، اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس کو مثال بنایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسی غفلت نہ ہو اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔