کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تدارک وقت کی ضرورت ، شجرکاری سے آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج بن چکی ہے

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج بن چکی ہے، درختوں کی افزائش سے درجہ حرارت، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور سیلابوں میں کمی ممکن ہے، ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تدارک وقت کی اہم ضرورت ، شجرکاری واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں شجرکاری مہم کی افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ درخت ہمارا مستقبل ہیں اور یہ ہمیں سانس لینے کے لیے آکسیجن فراہم کرتے ہیں ،یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بچیوں کے ساتھ مل کر درخت لگانے کا عمل دراصل قدرت کے اس نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے جس کے ذریعے انسان سانس لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور سیلابوں کے حوالے سے بات کی جاتی ہے کہ ہزاروں لوگ جاں بحق و زخمی اور کروڑوں بے گھر ہوئے لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ طوفان آتے کیوں ہیں۔ مصدق ملک نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے باعث ہوتا ہے جبکہ درخت اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے، درخت نہ صرف ماحول کو بہتر بناتے ہیں بلکہ ہماری ثقافت اور قدرتی حسن کا بھی حصہ ہیں اور یہی درخت ماحولیاتی نظام میں توازن پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انسانوں اور درختوں کے درمیان یہ توازن برقرار نہ رہے تو نہ صرف درخت ختم ہوں گے بلکہ انسانی تہذیب بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔مصدق ملک نے کہا کہ اسلام آباد میں شجرکاری مہم کے دوران ایک درخت کے بدلے دس درخت لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، غیر موزوں موسم کے باوجود بڑے درخت لگائے گئے اور اب وہ پروان چڑھ رہے ہیں جنہیں عوام خود دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم میں بچیوں کی شرکت انتہائی اہم ہے کیونکہ اگر یہ جذبہ ملک بھر میں پھیل جائے اور ہر گھر میں درخت لگائے جائیں تو بڑا انقلاب آ سکتا ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت ، گلیشیئرز کے پگھلائو اور سیلابوں کی شدت میں کمی آئے گی، یوں انسانی تہذیب محفوظ رہ سکے گی۔