وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں،
حریت رہنمائوں آسیہ اندارابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو قید کی سزا قابل مذمت، فیصلہ مسترد کرتے ہیں، انجینئر امیر مقام

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں، حکومت پاکستان آسیہ اندارابی کو عمر قید جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو تیس تیس سال سزائے قید کی بھرپور مذمت اور اسے مسترد کرتی ہے، کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، جبر، گرفتاریوں اور طویل سزائوں سے کشمیری عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، کشمیری عوام نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے زیر اہتمام پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ایک نہایت سنگین اور تشویشناک صورتحال پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جو نہ صرف بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھی رہنمائوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزائوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، یہ فیصلے انصاف کے بنیادی تقاضوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں دراصل سیاسی انتقام اور اختلافِ رائے کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے، بھارت اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی پالیسیاں برقرار رکھنے کے لیے عدالتی نظام کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے جس سے وہاں کی عدالتی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے، کئی دہائیوں سے کشمیری عوام ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 1989ء سے اب تک کے اعداد و شمار اس ظلم کی شدت کو واضح کرتے ہیں جن میں 96 ہزار سے زائد افراد شہید کیے گئے، 32 ہزار سے زائد افراد زخمی یا تشدد کا شکار ہوئے، 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں، 11 ہزار سے زائد خواتین زیادتی کا شکار ہوئیں، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہوئے، لاکھوں افراد کو گرفتار کیا گیا، یہ اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ ہر ایک کے پیچھے ایک انسانی المیہ چھپا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے جب بھارت نے غیر قانونی اقدامات کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مواصلاتی نظام بند کیا اور کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی ہرممکن کوشش کی، آزادی اظہار، نقل و حرکت اور معلومات تک رسائی جیسے بنیادی حقوق بھی سلب کر لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کی ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کی آواز بن کر دنیا کو اس دیرینہ تنازعے کی سنگینی سے آگاہ کیا ۔
انجینئر امیر مقام نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، جبر، گرفتاریوں اور طویل سزائوں سے کشمیری عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، کشمیریوں نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف انسانی بحران نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ تنازعہ کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے جس کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، بھارت کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آئے، کشمیری نہ پہلے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔
انہوں نے اسیر حریت قیادت اور کارکنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکالا جائے اور فوری طور پر غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کا انعقاد کیا جائے۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی معرکہ حق میں قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دانشمندانہ پالیسیوں کو سراہا۔ کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کہا کہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے مسلمہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس امر کی یاد دہانی کرائی کہ یہ حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور بھارت کے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی کشمیری عوام سے اس کا وعدہ کر چکے تھے جس سے بعدازاں انحراف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو بھارت کا نام نہاد ”اٹوٹ انگ” قرار دینا زمینی حقائق کے منافی ہے اور اس طرح کے بیانیے کشمیری عوام کے بنیادی، سیاسی اور انسانی حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنی جائز اور تاریخی جدوجہد کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ شمیم شال نے آسیہ اندرابی کو سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں ان کا کردار تاریخ کے سنہری اور روشن ابواب میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت اپنی انتہا پر ہیں ،تاہم وہاں آزاد میڈیا کی عدم موجودگی کے باعث حقائق دنیا کے سامنے پوری طرح نہیں آ پا رہے۔
پریس کانفرنس کے شرکا نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تمام اسیرانِ حریت کی جرات، استقامت اور غیر متزلزل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ مقررین نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں، بھارت پر دبائو بڑھائیں کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کرے اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دے۔
رہنمائوں نے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنی آزادی کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہرممکن قربانی دیں گے اور اپنے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پریس کانفرنس میں سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر، حاجی محمد سلطان، شیخ یعقوب، حاجی محمد سلطان، زاہد صفی، امتیاز وانی، سید گلشن، عدیل مشتاق، منظور ڈار، محمد شفیع ڈار، محمد اشرف ڈار اور مشتاق احمد بٹ نے بھی شرکت کی۔








