سپریم کورٹ آف پاکستان نے انصاف تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے حوالے سے اہم اور مربوط اقدامات کا آغاز کر دیا ہےجس کے تحت عدالتی نظام کو مزید تیز، مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کا انصاف تک رسائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر کیس مینجمنٹ کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے انصاف تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے حوالے سے اہم اور مربوط اقدامات کا آغاز کر دیا ہےجس کے تحت عدالتی نظام کو مزید تیز، مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے وکلا اور فریقین کو وڈیو لنک کے ذریعے مختلف شہروں سے سماعت میں شرکت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے انہیں اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ سہولت خاص طور پر دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے سائلین کے لیے نہایت مفید ثابت ہو رہی ہے، جس سے اخراجات اور سفری مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
24 مارچ 2026 کو ہونے والی ایک حالیہ سماعت میں کوئٹہ، حیدرآباد اور کراچی سے وکلا نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہو کر اس نظام کی مؤثریت کا عملی مظاہرہ کیا۔یہ اقدامات لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی زیرِ قیادت جاری وسیع تر اصلاحاتی فریم ورک کا حصہ ہیں، جس میں ہائی کورٹس کے ساتھ مسلسل رابطہ، عدالتی عملے کی تربیت، آئی ٹی نظام کی بہتری، سسٹمز کی اپ گریڈیشن اور تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بتدریج اور مؤثر انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے۔مزید برآں، حکومت کی کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات کے تحت عدالتی اوقاتِ کار کو پانچ دن سے کم کر کے چار دن (پیر تا جمعرات) کر دیا گیا ہے۔
تاہم، عدالت نے کیسز کی شیڈولنگ کو بہتر بناتے ہوئے ہر کام کے دن میں مناسب تعداد میں مقدمات مقرر کیے ہیں تاکہ عدالتی کارکردگی متاثر نہ ہو اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ڈیجیٹل سہولیات، بہتر شیڈولنگ اور انتظامی اصلاحات کا یہ امتزاج سپریم کورٹ کے ایک ایسے عدالتی نظام کے قیام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو زیادہ جوابدہ، مؤثر اور عوام دوست ہو، اور قانون کی حکمرانی پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنائے۔








