مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں، کم عمری کی شادی کے معاملے میں صرف فوجداری سزا دی جا سکتی ہے، نکاح ختم نہیں ہوتا،وفاقی آئینی عدالت
مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں، کم عمری کی شادی کے معاملے میں صرف فوجداری سزا دی جا سکتی ہے، نکاح ختم نہیں ہوتا،وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں، تاہم کم عمری کی شادی کے معاملے میں قانون کے تحت صرف فوجداری سزا دی جا سکتی ہے، نکاح خود بخود ختم نہیں ہوتا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 میں کم عمری کی شادی کو کالعدم قرار دینے کی کوئی صراحت موجود نہیں، بلکہ اس قانون میں صرف سزا کا تعین کیا گیا ہے۔ اس لیے کم عمر افراد کے درمیان ہونے والا نکاح محض اس بنیاد پر باطل نہیں سمجھا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کا قبولِ اسلام اور شہریار نامی نوجوان سے نکاح درست قرار دیا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ماریہ نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا جس کا باقاعدہ ڈیکلریشن بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ حبسِ بے جا کی درخواستوں میں لڑکی کی عمر یا دارالافتاء کی دستاویزات کی درستگی کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا جا سکتا، اور ایسے معاملات محدود دائرہ اختیار میں دیکھے جاتے ہیں۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے احکامات کی پابند ہیں۔ عدالت نے یہ اصول بھی بیان کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کی پابند نہیں جو آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔کیس کے پس منظر میں بتایا گیا کہ ماریہ بی بی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرکے شادی کی تھی جبکہ اس کے والد کی جانب سے اغواء کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا جو بعد ازاں خارج ہو گیا۔ ماریہ نے عدالت میں بیان دیا کہ اسے اغواء نہیں کیا گیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔ بعد ازاں اس کے والد نے کم عمری کی بنیاد پر حبسِ بے جا کی درخواستیں دائر کیں، جو مختلف عدالتوں سے ہوتی ہوئی وفاقی آئینی عدالت نے بھی خارج کر دیں۔








