وزارت توانائی کے زیر اہتمام مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز صنعتی ٹیرف نظام کے مسودے پر مشاورتی اجلاس، ماہرین نے بریفنگ دی
وزارت توانائی کے زیر اہتمام مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز صنعتی ٹیرف نظام کے مسودے پر مشاورتی اجلاس، ماہرین نے بریفنگ دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):وزارت توانائی کے زیر اہتمام مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز صنعتی ٹیرف نظام کے مسودے پر ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر کے صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے نمایاں سٹیک ہولڈرز، ایف پی سی سی آئی، اپٹما، ایل سی سی آئی سمیت دیگر بڑے صنعتی صارفین کے نمائندگان اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق یہ مشاورتی عمل وفاقی وزیر توانائی کی ہدایات کے تحت شروع کیے گئے ایک وسیع، شفاف اور جامع سلسلے کا حصہ ہے جس کا مقصد ایسا ٹیرف نظام وضع کرنا ہے جو صنعتی شعبے کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام کی پائیداری کو بھی یقینی بنائے۔ اجلاس کے دوران انجینئر سید فیضان علی (انرجی ایڈوائزر، وزارت توانائی)، عمار حبیب (انرجی ایکسپرٹ)، رمشہ ریحان (پی ایچ ڈی محقق، ٹیرف -یونیورسٹی آف میلبورن)، عابد لودھی (منیجنگ ڈائریکٹر، پی پی ایم سی)، نوید (چیف، پی پی ایم سی) اور برئیر (ٹیم لیڈ، پی پی ایم سی) نے مجوزہ ٹیرف پیکیج کی اہم خصوصیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
مجوزہ نظام کو صنعتی صارفین کے لیے اختیاری (آپٹ ان) بنیادوں پر متعارف کرایا جا رہا ہے اور اسے لازمی قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس میں نسبتاً زیادہ فکسڈ چارجز شامل کیے گئے ہیں تاکہ کیپسٹی لاگت کی وصولی ممکن بنائی جا سکے جبکہ تین مختلف ٹائم آف یوز سلیبز کے تحت کم متغیر توانائی نرخ متعارف کروائے گئے ہیں۔ اس ماڈل کا مقصد خصوصاً آف پیک اور شمسی پیداوار کے اوقات میں صنعتی بجلی کے استعمال میں اضافہ کو فروغ دینا اور طلب کے موثر انتظام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ مزید برآں اس ٹیرف کے انتخاب کرنے والے صارفین کے لیے سمارٹ میٹرز کی تنصیب بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ درست پیمائش اور ٹائم آف یوز بنیادوں پر قیمتوں کے نفاذ کو موثر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں صنعتی نمائندگان نے بھرپور شرکت کی اور زمینی حقائق کے مطابق ٹیرف ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی آرا اور تجاویز پیش کیں۔ ان کی بنیادی توجہ منظور شدہ لوڈ، صنعتوں کی اقسام، فکسڈ چارجز کی رقم اور ایف سی اے و کیو ٹی اے ایڈجسٹمنٹس کی وصولی کے طریقہ کار پر مرکوز رہی۔ ان تجاویز کا مقصد عملی نفاذ میں آسانی، آپریشنل پیچیدگیوں کا تدارک اور صنعتی مسابقت کو مضبوط بناتے ہوئے مکمل لاگت کی وصولی کو یقینی بنانا تھا۔ صنعتی تنظیموں، خصوصاً ایف پی سی سی آئی، اپٹما اور ایل سی سی آئی کے نمائندگان نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور پاور ڈویژن کی جانب سے اس مرحلے پر سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کے اقدام کو سراہا۔
انہوں نے اس مشاورتی عمل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ٹیرف نظام کو حتمی شکل دینے کے لیے بھرپور تعاون اور تعمیری آراء فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزارت توانائی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سٹیک ہولڈرز کی آراکو مجوزہ ٹیرف نظام کے حتمی خدوخال میں شامل کیا جائے گا۔ یہ مشاورتی سلسلہ آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رہے گا تاکہ ایک متوازن، جامع اور صنعتی ترقی کے لیے سازگار فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ اجلاس کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر ہوا جہاں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ توانائی کے موثر اور پائیدار مستقبل کے حصول کے لیے حکومت اور صنعت کے مابین اشتراک ناگزیر ہے۔








