پاکستان نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے عبادت گزاروں کو باجماعت نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے جو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش کی شدید مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):پاکستان نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے عبادت گزاروں کو باجماعت نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے جو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدامات کے بعد مسلسل ساتویں سال بھی قابض انتظامیہ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو سیل کر رکھا ہے اور کشمیری مسلمانوں کو اس روحانی اہمیت کے حامل دن پر اجتماع سے روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی پابندیاں خصوصاً رمضان المبارک کے دوران شدید تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور بھارت سے مطالبہ کریں کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی کے بنیادی حق کا احترام کرے۔








