ٹیکنالوجی کمپنی زونگ کا وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور پاک-ای پی اے کے اشتراک سے اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر شجرکاری مہم کا آغاز

ٹیکنالوجی کمپنی زونگ نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) کے اشتراک سے اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے۔

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):ٹیکنالوجی کمپنی زونگ نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) کے اشتراک سے اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے۔شجرکاری مہم کے موقع پرمنعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔جمعرات کو جاری بیان کے مطابق یہ اقدام زونگ کے اس سٹریٹجک وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی میں جدت کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل شعبے کے رہنما موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور قومی سطح پر ماحولیاتی مضبوطی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مضبوط ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے زونگ پائیدار طریقہ کار کو فروغ دے رہا ہے جو پاکستان کے طویل المدتی ماحولیاتی توازن میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تقریب میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، پاک-ای پی اے اورسی ڈی اے کے پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ زونگ کی لیڈرشپ بھی موجود تھی جس نے سرسبز تبدیلی کو تیز کرنے کے لئے فریقین کے باہمی تعاون کے اثرات کو اجاگر کیا۔ اس دوران مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات اور میڈیا کی شرکت نے اجتماعی ذمہ داری کے پیغام کو مزید تقویت دی اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار طرزِ زندگی کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دیا۔اس مہم کے تحت شکرپڑیاں کے ان علاقوں میں مقامی اور موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ پودے لگائے گئے ہیں جو اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ واقع ہیں اور جہاں سبزہ کم ہونے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

 

یہ ہدف پر مبنی شجرکاری ہے جو شہروں میں سبزہ لانے، کاربن میں کمی لانے، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرنے اور شہر کا فضائی معیار کو بہتر بنانے میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور ضروری آکسیجن پیدا کرتے ہیں، درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ ہے، آج ہم جو درخت لگاتے ہیں وہ بڑھ کر ملک کی ترقی، معاشی اور ماحولیاتی بہتری میں حصہ ڈالیں گے،31 مارچ کے بعد بڑے پیمانے پر شجرکاری جاری رہے گی اور درختوں کی حفاظت پر بھی برابر توجہ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میں اس تعاون اور مسلسل ماحول دوست اقدامات پر زونگ کو سراہتا ہوں ۔زونگ کی ڈائریکٹر سٹریٹجی نبیلہ یزدانی نے کہاکہ یہ اقدام ہمارے اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ پائیداری کو ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر ہمارے کام کے بنیادی ڈھانچے میں شامل ہونا چاہئے، درخت لگانے سے بھی آگے بڑھ کر ہم ماحولیاتی ذمہ داری کی ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں،ہم اپنے لوگوں کو موسمیاتی اقدامات میں فعال کردار ادا کرنے اور اپنی روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں پائیدار طریقے اپنانے کے لئے بااختیار بنا رہے ہیں، زونگ میں یہ ایک مسلسل سفر ہے جس کا مقصد ایک سرسبز اور زیادہ مضبوط مستقبل کی تعمیر یقینی بنانا ہے۔

اس اقدام کے علاوہ بھی زونگ ایک واضح سٹریٹجک ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،سبز ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو اپنے آپریشنز کے بنیادی حصے میں شامل کرنا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت کرنے والے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ حل اور پائیدار جدت فراہم کر کے یہ ادارہ ایک صاف اور سرسبز پاکستان کے قیام میں مدد دے رہا ہے۔زونگ ایسی کوششوں کے ذریعے نہ صرف ایک ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر بلکہ پائیدار ترقی کے محرک کے طور پر بھی اپنی حیثیت کو منوا رہا ہے اور اپنے اس عزم کو مزید تقویت دے رہا ہے کہ کنکٹیویٹی کا مستقبل سبز ٹیکنالوجی سے چلتا ہے اور ماحولیاتی ذمہ داری کے اصولوں کے تحت رہنمائی حاصل کرتا ہے۔