طالبات کے لیے سیلف ڈیفنس ورکشاپس کا آغاز

اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) لاہور نے پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن (پی ایم اے اے) کے تعاون سے لاہور ڈویژن کی طالبات کے لیے بڑے پیمانے پر ’’سیلف ڈیفنس ٹریننگ‘‘ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نچلی سطح پر کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے۔لاہور، شیخوپورہ اور قصور میں جاری ان ورکشاپس کے دوران …

اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) لاہور نے پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن (پی ایم اے اے) کے تعاون سے لاہور ڈویژن کی طالبات کے لیے بڑے پیمانے پر ’’سیلف ڈیفنس ٹریننگ‘‘ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نچلی سطح پر کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے۔لاہور، شیخوپورہ اور قصور میں جاری ان ورکشاپس کے دوران اب تک 30 سکولوں کی 2500 سے زائد طالبات کو تربیت دی جا چکی ہے۔

یہ پروگرام مارشل آرٹس کو ایک باقاعدہ کھیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے طالبات کی جسمانی فٹنس، چستی اور ذہنی استقامت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں حفاظت کے ضروری گر سکھا رہا ہے۔ ٹریننگ سیشنز پی ایم اے اے کے صدر اور چیف ٹرینر انور محی الدین کی سربراہی میں ماہر کوچز کی نگرانی میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جس میں جدید مارشل آرٹس، نظم و ضبط اور دفاعی مہارتوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے اس موقع پر کہا کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس ویژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پنجاب کی ہر لڑکی کو خود حفاظتی کی تربیت دینا مقصود ہے۔ انہوں نے اسے ایک محفوظ اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ڈائریکٹر یو ایچ ایس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدرہ سلیم نے واضح کیا کہ سیلف ڈیفنس کی تعلیم نوجوان نسل کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے تاکہ وہ خود اعتمادی اور آزادی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

چیف ٹرینر انور محی الدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مارشل آرٹس محض ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی بچانے کی ضرورت ہے اور طلبہ و والدین کی جانب سے ملنے والے بھرپور ردعمل کے بعد اس پروگرام کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔تعلیمی اداروں اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو خواتین کی خودمختاری اور تحفظ کے حوالے سے ایک طاقتور سنگ میل قرار دیتے ہوئے اسے سراہا ہے۔