وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے پٹرولیم مصنوعات کا اجلاس

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو مستحکم قرار دیتے ہوئے بتایا گیاہے کہ عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھائو کے باوجود ڈیزل اور پٹرول کے وافر ذخائر موجود ہیں اور درآمدی و سپلائی منصوبہ بندی کے باعث آئندہ ہفتوں میں بھی صورتحال قابو میں رہے گی۔

اسلام آباد۔30مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو مستحکم قرار دیتے ہوئے بتایا گیاہے کہ عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھائو کے باوجود ڈیزل اور پٹرول کے وافر ذخائر موجود ہیں اور درآمدی و سپلائی منصوبہ بندی کے باعث آئندہ ہفتوں میں بھی صورتحال قابو میں رہے گی۔ پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ یہ اجلاس بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم ذخائر اور توانائی کے شعبے کی پیش رفت کے روزانہ جائزے کا حصہ تھا۔کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، رسد کے انتظامات اور درآمدی منصوبہ بندی کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال مستحکم ہے، جہاں ڈیزل کے ذخائر تقریباً 23 تا 24 دن کے لیے کافی ہیں جبکہ پٹرول کی دستیابی بھی تسلی بخش ہے۔ مزید بتایا گیا کہ خام تیل کے ذخائر اس وقت تقریباً 11 دن کے لیے موجود ہیں جبکہ مزید کارگو راستے میں ہیں اور متعین شدہ مقدار اپریل کے دوران ریفائنری آپریشنز اور مصنوعات کی دستیابی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔پٹرولیم ڈویژن نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ اپریل کے لیے درآمدی منصوبے فعال طور پر منظم کیے جا رہے ہیں اور خاطر خواہ مقدار پہلے ہی کمرشل اورحکومت کی سطح پر معاہدوں کے ذریعے حاصل کی جا چکی ہے۔ ریفائنریوں کو بہترین سطح پر چلایا جا رہا ہے اور خام تیل کو زیادہ سے زیادہ ریفائن کر کے مقامی طلب پوری کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی تیل کی منڈیاں اس وقت شدید اتار چڑھائو اور دبائو کا شکار ہیں جہاں حالیہ دنوں میں بینچ مارک قیمتوں اور کارگو پریمیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے نوٹ کیا کہ موجودہ صورتحال علاقائی پیش رفت سے جڑی رسد کی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس کے باعث ڈیزل اور پٹرول کے کارگو پر پریمیئم بڑھ گئے ہیں۔کمیٹی نے خریداری کی حکمت عملیوں کا بھی جائزہ لیا اور اس بات کو سراہا کہ موجودہ معاہدوں کے تحت سازگار شرائط پر سپلائی حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں جن میں حکومتی سطح پر کیے گئے معاہدے نسبتاً کم لاگت فراہم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی قیمتوں میں تفاوت اور منڈی کے دبائو کے پیش نظر محتاط فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ایندھن کی درآمد کے عملی پہلوئوں پر بھی غور کیا گیا جن میں شپنگ انتظامات، انشورنس اور لاجسٹکس شامل ہیں۔ قومی شپنگ صلاحیت کے استعمال سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے تجارتی دانشمندی، شفافیت اور بلا تعطل فراہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

کمیٹی نے ملکی طلب کے رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے حالیہ ہفتوں میں کھپت میں اضافے کو نوٹ کیا۔ ارکان نے ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی اور ملک بھر میں ہموار ترسیل یقینی بنانے کے لیے کڑی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو نگرانی اور نفاذ کے اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں پٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خاص طور پر ریئل ٹائم ڈیٹا کی دستیابی کو بہتر بنانے بشمول ریٹیل سطح پر، ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری پر زور دیا گیا۔ متعلقہ اداروں کو بروقت ڈیٹا شیئرنگ اور انضمام کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تاکہ بہتر اور فوری فیصلے کیے جا سکیں۔

مزید برآں، ایندھن کی خصوصیات اور قیمتوں کے بہتر تعین سے متعلق ایک تجویز پر بھی غور کیا گیا جس کا مقصد ملکی کھپت میں بہتری اور مقامی ریفائننگ صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ اس تجویز پر مزید مشاورت کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔کمیٹی نے وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے فریم ورک پر کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پٹرولیم ڈویژن کو اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور عالمی قیمتوں کے اثرات کو عوام پر کم سے کم رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود بروقت منصوبہ بندی اور مربوط اقدامات کے باعث ملکی سطح پر رسد مستحکم رہی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق مسعود ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری (بذریعہ ویڈیو لنک) اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان (بذریعہ ویڈیو لنک) سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔