سپریم کورٹ ، بیوی سمیت 3 خواتین کے قاتل کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم

اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے بیوی، ساس اور خالہ ساس کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملزم سلطان احمد کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔مقدمے کی سماعت جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں ہوئی۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور پٹرول و لائٹر فروخت کرنے والے گواہوں نے بھی …

اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے بیوی، ساس اور خالہ ساس کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملزم سلطان احمد کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔مقدمے کی سماعت جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں ہوئی۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور پٹرول و لائٹر فروخت کرنے والے گواہوں نے بھی ملزم کی شناخت کی ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزم سلطان احمد نے 2022ء میں رحیم یار خان میں ذاتی رنجش پر اپنی بیوی، ساس اور خالہ ساس کو جلا کر قتل کیا تھا۔

ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ خواتین کھانا بناتے ہوئے حادثاتی طور پر جل گئیں تاہم عدالت نے اس موقف کو مسترد کر دیا۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بیوی کو قتل کیوں کیا جاتا ہے، طلاق بھی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسے واقعات تشویشناک ہیں کہ لوگ اپنی بیویوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ جسٹس کاکڑ نے ایک اور مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دو ملزمان نے مخالف کی بیویوں کو قتل کیا تھا۔عدالت نے شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کی اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت کو برقرار رکھا۔