حکومت مضبوط، منصفانہ اور مستحکم نظام صحت کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے ،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یوم صحت پر پیغام

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صحت مند قوم کی تعمیر کیلئے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر عوام، ماحول اور آئندہ نسلوں کی صحت کا تحفظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ایک مضبوط، منصفانہ اور مستحکم نظام صحت کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے ۔

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صحت مند قوم کی تعمیر کیلئے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر عوام، ماحول اور آئندہ نسلوں کی صحت کا تحفظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ایک مضبوط، منصفانہ اور مستحکم نظام صحت کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے عالمی یوم صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر عالمی یوم صحت بھر پور انداز میں منا رہا ہے۔

عالمی یوم صحت (کل )منگل کو منایا جارہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم صحت مند قوم کی تعمیرکے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس سال اس دن کا عنوان ’’صحت کے لیے متحد ہوں، سائنس کا ساتھ دیں‘‘ایک نہایت مثبت پیغام ہے۔ یہ موضوع ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ سائنس کا انسانوں کی فلاح کے لیے عملی اور مفید استعمال ہی اصل مطمع نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت کا تقاضا ہے سائنس کی افادیت کوایسی پالیسی اور خدمات میں ڈھالیں جو عوام، ماحول اور آنے والی نسلوں کی صحت کا تحفظ کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے نظام صحت کو بتدریج ایک ایسے ماڈل کی طرف منتقل کر رہا ہے جو محض بیماری کے علاج کے بجائے اس کی روک تھام اور صحت کے فروغ پر مبنی ہو۔ جہاں بنیادی صحت کی سہولیات کو صحت کی عمومی فراہمی کی بنیاد بنایا گیا ہے۔

پاکستان ایک ’’علاج پر مبنی نظام‘‘سے ’’روک تھام اور صحت کے فروغ کے نظام‘‘ کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ صحت نہ صرف انفرادی ترجیح بلکہ یہ معاشی ترقی، قومی استحکام اور سماجی معیار زندگی کی بنیاد بھی ہے۔ حکومت پاکستان ایک مضبوط، منصفانہ اور مستحکم نظام صحت کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے جو جدت اور باہمی تعاون پر مبنی ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے قومی اور صوبائی سطح پر ضروری طبی خدمات کے پیکیج کی لاگت کا تعین کیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہم اضلاع کی سطح پر ای پی ایچ ایس کے نفاذ کو وسعت دے رہے ہیں تاکہ ہر شہری کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ ہماری آئندہ قومی صحت و آبادی پالیسی (2026–2035) کا ایک اہم ستون ہے۔ ہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم-2، ٹیلی میڈیسن، اور ڈیٹا نظام کو مربوط بنا رہے ہیں تاکہ خدمات کی فراہمی، شفافیت اور فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری صحت کے حصول کے لیے آبادی میں اضافہ کی روک تھام، پانی و صفائی اور غذائیت جیسے عوامل پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ حکومت ان عوامل پر کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نظام صحت میں مالی معاونت کو مضبوط بنانے، اخراجات کی بہتر نگرانی، اور انشورنس جیسے مالی تحفظ کے اقدامات کو وسعت دینے پر بھی کام کر رہی ہے۔ ہمارا ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ صحت کے اخراجات کی وجہ سے کوئی پاکستانی غربت کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی یوم صحت پر، وفاقی و صوبائی حکومتوں تمام متعلقہ اداروں، ترقیاتی شراکت داروں ، نجی شعبے، تعلیمی اداروں کے لیے تجدید عزم کا دن ہے کہ وہ باہمی تعاون اور جدت پر مبنی اقدامات کے ذریعے ایک صحت مند و توانا مستحکم پاکستان کی تعمیر کیلئے اپنا فرض ادا کریں ۔