سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھ کر بھارت عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، سابق سفیر منظور الحق

سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھ کر بھارت عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، سابق سفیر منظور الحق

پشاور۔ 12 اپریل (اے پی پی):سابق سفیر منظور الحق نے کہا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈال کر عالمی معاہدوں اور ورلڈ بینک کی ضمانت کی خلاف ورزی کی ہے۔ اتوار کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں نے بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا ہے، فاشسٹ مودی حکومت کو اس کا جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان خاص طور پر پانی کے معاملے پر ایک اور جنگ کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پہنچیں گے۔

سندھ طاس معاہدہ جس میں 1960 میں ورلڈ بینک نے ثالثی کی تھی، دونوں ایٹمی مسلح پڑوسیوں کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے کنٹرول کا تصفیہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں غیر قانونی طور پر معاہدے کو التوا میں رکھنے کی گھناؤنی کوشش کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار پانیوں پر یکطرفہ غیر قانونی اقدامات تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کےلیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان کو سندھ طاس کے مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر آبپاشی، پینے اور غیر استعمال شدہ مقاصد جیسے پن بجلی کے حقوق دیتا ہے جبکہ بھارت راوی، بیاس اور ستلج کے مشرقی دریاؤں کو کنٹرول کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے علاقائی استحکام پر نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 دسمبر سے 15 دسمبر تک دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی اور اچانک تبدیلیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلیاں پاکستان کےلیے انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ یہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کے یکطرفہ اخراج کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بھارت نے یہ پانی پاکستان کو کسی پیشگی اطلاع یا ڈیٹا اور معلومات کے تبادلے کے بغیر چھوڑا ہے جیسا کہ معاہدے کے تحت ضروری ہے۔بھارت کی جانب سے یہ خلاف ورزیاں پاکستانی زراعت کےلیے ایک نازک وقت پر ہوتی ہے اور یہ براہ راست شہریوں کی زندگیوں اور معاش کے ساتھ ساتھ خوراک اور معاشی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔

سابق سفیر منظور الحق جنہوں نے سعودی عرب میں خدمات انجام دیں، نے کہا کہ بھارت کا حالیہ غیر قانونی اقدام واضح طور پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مثال ہے جس کی طرف پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مبذول کروا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی غیر قانونی اقدامات نے انڈس واٹر کمشنر کو اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھنے پر مجبور کیا جس میں سندھ طاس معاہدے کے تحت فراہم کردہ اہم معاملے پر وضاحت طلب کی گئی۔ پاکستان کو توقع تھی کہ بھارت پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا واضح جواب دے گا، دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی سے باز رہے گا اور سندھ طاس معاہدے کی دفعات کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔

پشاور یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اعجاز خان کے مطابق بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التوا میں نہیں رکھ سکتا اور دی ہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کے تاریخی فیصلے کے بعد وہ تمام بنیادیں کھو چکا ہے۔ انہوں کہا کہ بھارت کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس جیسے مختلف ڈیم غیر قانونی طور پر تعمیر کر کے مسلسل سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ ایک انتہائی خطرناک مثال ہے۔ ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ بھارت معاہدے کی دفعات کے تحت قائم شدہ ثالثی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک دانستہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور اس نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو فاقہ کشی اور بھوک کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

جنوبی ایشیائی پڑوسی ملک دہائیوں سے مشترکہ دریائے سندھ کے نظام پر پن بجلی کے منصوبوں پر بحث کر رہے ہیں، پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کے ہائیڈرو پاور ڈیم اس کے پانی کے بہاؤ کو کم کر دیں گے اور زراعت کو تباہ کر دیں گے۔ گزشتہ سال اگست میں ثالثی عدالت نے اعلان کیا کہ بھارت مغربی دریاؤں کا پانی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند قانونی دستاویز ہے جس نے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام میں انمول کردار ادا کیا ہے اور اسے یکطرفہ طور پر واپس نہیں لیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی بندش پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کے خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ایک طرف بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ کو خطرے میں ڈالتی ہے اور دوسری طرف یہ علاقائی امن و سلامتی، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کو چلانے والے اصولوں کےلیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری اور ورلڈ بینک فاشسٹ بھارتی حکومت کو اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے واپس لینے اور مغربی دریاؤں میں پانی کے بلا روک ٹوک بہاؤ کی اجازت دینے پر مجبور کر کے فوری مداخلت کریں گے۔