وزیر داخلہ محسن نقوی کا 31 دسمبر 2026ء تک ایف آئی اے کو جدید اور متحرک ادارہ بنانے کا ہدف، زیرو کرپشن پالیسی کا اعلان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو 31 دسمبر 2026ء تک ایک جدید، فعال اور موثر ادارہ بنانے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام وسائل کی فراہمی کے بعد محکمے میں کرپشن کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اپنائی جائے گی

اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو 31 دسمبر 2026ء تک ایک جدید، فعال اور موثر ادارہ بنانے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام وسائل کی فراہمی کے بعد محکمے میں کرپشن کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اپنائی جائے گی۔اسلام آباد میں ایف آئی اے افسران کی خصوصی کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے نئے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، انسپکٹرز اور اسلام آباد میں تعینات افسران سے پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا اور ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور بھی موجود تھے۔وزیر داخلہ نے افسران کے مسائل خود سنے اور ان کے فوری حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ نئے ڈی جی کی متحرک قیادت میں ایف آئی اے کو ایک فعال ادارہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خامیوں کو دور کرنا اور نظام کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ پروموشن ہر ملازم کا حق ہے، اس سلسلے میں سروس سٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا اور افسران کی بروقت ترقیاں یقینی بنائی جائیں گی۔محسن نقوی نے ایف آئی اے کے تمام شہداء کے خاندانوں کو پلاٹس دینے کا بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین کے لیے ایک جامع ویلفیئر پلان مرتب کیا جا رہا ہے جس میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سٹاف کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔وزیر داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تمام وسائل فراہم کرنے کے بعد زیرو کرپشن پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا اور کرپٹ عناصر کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ تاہم، انہوں نے ایماندار افسران کو مکمل تحفظ دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ سچ اور حق پر ہیں تو حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی، آپ کو مکمل جاب سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔محسن نقوی نے ادارے کی افرادی قوت میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2008ء کی نفری کے ساتھ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہارڈننگ دی سٹیٹ‘‘ پالیسی میں ایف آئی اے کا کردار کلیدی ہے کیونکہ یہ واحد وفاقی ادارہ ہے جو ملک بھر میں وفاقی حکومت کی رٹ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تقریب سے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بھی خطاب کیا اور ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔