اداروں میں انکوائری کمیٹیاں فعال نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، فوسپا

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسداد ہراسانی (فوسپا) نے محمد میڈیکل کالج میرپورخاص میں ہراسانی کے الزامات اور ایک قیمتی جان کے ضیاع سے متعلق حالیہ رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام اداروں کو قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسداد ہراسانی (فوسپا) نے محمد میڈیکل کالج میرپورخاص میں ہراسانی کے الزامات اور ایک قیمتی جان کے ضیاع سے متعلق حالیہ رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام اداروں کو قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔فوسپا کی جانب سے جاری پریس بریف میں کہا گیا ہے کہ تحفظِ خواتین برائے ہراسانی بمقامِ کار ایکٹ 2010 کے تحت اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے تدارک کے لئے مؤثر اقدامات کریں اور شکایات کے ازالے کے لئے مربوط نظام قائم کریں۔پریس بریف کے مطابق تمام وفاقی سرکاری، منسلک، تعلیمی اور طبی ادارے قانون کے تقاضوں پر فوری عمل کریں۔

خاص طور پر دفعہ 3 کے تحت ہر ادارہ باقاعدہ نوٹیفائیڈ اور فعال انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا پابند ہے جس میں اہل افراد شامل ہوں اور کم از کم ایک خاتون کی نمائندگی لازمی ہو۔فوسپا نے واضح کیا کہ انکوائری کمیٹیوں کا مقصد ہراسانی کی شکایات کو منصفانہ، شفاف اور بروقت انداز میں نمٹانا ہے اس لئے یہ کمیٹیاں صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر فعال اور قابلِ رسائی ہوں۔بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ قانون کا اطلاق تمام کام کی جگہوں پر ہوتا ہے جن میں تعلیمی اور طبی ادارے بھی شامل ہیں اور اس میں ہراسانی کی واضح تعریف موجود ہے جس میں جنسی اور صنفی بنیادوں پر بدسلوکی بھی شامل ہے، تمام ادارے ہر شکایت کو سنجیدگی اور فوری توجہ کے ساتھ نمٹانے کے پابند ہیں۔

فوسپا نے خبردار کیا کہ انکوائری کمیٹیوں کا قیام نہ کرنا یا انہیں غیر فعال رکھنا قانون کی خلاف ورزی ہے جس پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے موجودہ نظام کا فوری جائزہ لیں، انکوائری کمیٹیوں کو مؤثر بنائیں اور محفوظ و خفیہ شکایتی نظام قائم کریں۔پریس بریف میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی فرد کو ہراسانی کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور ادارہ جاتی غفلت کے باعث کسی جان کا ضیاع ناقابلِ قبول ہے۔ فوسپا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپنے قانونی مینڈیٹ کے تحت کام کی جگہوں پر ہراسانی کے خاتمے کے لئے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔