وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر امریکا کے محکمہ خزانہ وتجارت،سعودی فنڈ برائے ترقی اوربین الاقوامی مالیاتی اداروں وکمپنیوں کے عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کیں۔
وفاقی وزیر خزانہ کی امریکی محکمہ خزانہ وتجارت سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں وکمپنیوں سے ملاقاتیں،باہمی تعاون کے فروغ بارے تبادلہ خیال کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر امریکا کے محکمہ خزانہ وتجارت،سعودی فنڈ برائے ترقی اوربین الاقوامی مالیاتی اداروں وکمپنیوں کے عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے جاری تعاون اور آئندہ ترقیاتی شراکت داری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیر خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی اور دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے عالمی توانائی و سلامتی پر اثرات اور اس کے ممکنہ معاشی نتائج بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس تنازعے کے جلد حل کی امید ظاہر کی اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرینہ شراکت داری کے عزم کا اعادہ اور اقتصادی و ترقیاتی تعاون مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکا کے تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریئر سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کو کلیدی قرار دیا۔ انہوں نے سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی اور مارکیٹ تک رسائی میں بہتری کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پائیدار اقتصادی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔ فریقین نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تعمیری تبادلہ خیال کیا جس میں برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں وسعت، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔دونوں جانب سے جاری تجارتی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار اور دوطرفہ اقتصادی تعاون میں مثبت پیش رفت کو سراہا گیا۔ فریقین نے باہمی مفاد پر مبنی نتائج کے حصول اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے تعاون مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموتو سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے ایجنسی کی جانب سے مجوزہ قلیل مدتی تجارتی مالیاتی سہولت جس کا حجم 500 ملین امریکی ڈالر تک ہے، کا خیرمقدم کیا اور اسے خوراک، کھاد، توانائی اور ضروری مشینری سمیت اہم درآمدات کی مالی اعانت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس سہولت پر پیش رفت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔وزیر خزانہ نے جاری ثالثی مقدمات اور ان سے وابستہ مالیاتی اثرات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کی غیر جانبدار سہولت کاری خوشگوار حل کے حصول میں معاون ثابت ہوگی جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔حکومت کے پائیدار سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی استحکام برقرار رکھنے کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایجنسی کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور سازگار سرمایہ کاری ماحول کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد اظہور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن ٹیم سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے سٹاف لیول معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ جلد اس کی منظوری دے گا تاکہ پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام کی رفتار برقرار رہے۔ملاقات کے دوران سینیٹر محمد اورنگزیب نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے پاکستان کی معیشت پر اثرات سے آگاہ کیا اور اسے حالیہ دور کے بڑے سپلائی شاکس میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بحران کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات بالخصوص معاشی نمو اور مہنگائی کے حوالے سے مؤثر انداز میں نمٹ رہی ہے۔وزیر خزانہ نے یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی کا بھی ذکر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تمام آئندہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی مالی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرے گی۔ فریقین نے مالیاتی اورڈھانچہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت اور محصولات بڑھانے کی کوششوں بارے بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے۔ گوگل کے نائب صدر اور گلوبل ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کرن بھاٹیا سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان میں گوگل کے جاری اقدامات کو سراہا بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے شعبے میں تربیت اور استعداد بڑھانے کے پروگرامز کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان میں گوگل کروم بکس کی مقامی تیاری کے آغاز اور جولائی 2026 میں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ فریقین نے حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کے فروغ اور اسے معیشت کے اہم شعبوں، خصوصاً زراعت اور صنعت میں استعمال میں لانا ہے۔دونوں جانب سے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے وسیع تر ایجنڈے کے تحت باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ماسٹرکارڈ کے چیف گلوبل افیئرز اینڈ پالیسی ٹکر فوٹ سے ملاقات میں فریقین نے پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، مالی شمولیت بڑھانے اور فِن ٹیک شعبے میں جدت کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں جانب سے پاکستان میں محفوظ، جامع اور جدید ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ملاقات میں سائبر سکیورٹی، سرحد پار مالی لین دین اور ترسیلات زر سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری برائے بین الاقوامی امور جوناتھن گرینسٹین سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے سٹاف لیول معاہدے پر روشنی ڈالی اور اصلاحات کے پروگرام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کی ہے اور حکومت آئندہ تمام بیرونی مالی ذمہ داریوں کو بروقت ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ فریقین نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے معاشی اثرات بارے بھی بات چیت کی بالخصوص ترسیلات زر اور پاکستان کے بیرونی شعبے پر اس کے اثرات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے امریکی حکام کو اس صورتحال کے براہ راست اور بالواسطہ اثرات سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور ایک مضبوط اور متنوع اقتصادی شراکت داری کے قیام پر اتفاق کیا جو علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف پر مبنی ہو۔\








