وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ سے کینیڈین ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ بارے تبادلہ خیال کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ۔ ملاقات میں سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ و ایس آئی ایف سی جمیل قریشی، ایڈیشنل سیکرٹری ذوالفقار علی، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران اور کینیڈین ہائی کمیشن کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ملاقات کے دوران فریقین کے درمیان مجوزہ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے ( بی آئی ٹی ) پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مذاکرات کا دوسرا دور جون 2026 میں متوقع ہے۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ باہمی مشاورت اور مسلسل رابطوں کے ذریعے معاہدے کو کم سے کم وقت میں حتمی شکل دی جائے گی۔کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے توانائی، زراعت، مالیاتی خدمات اور اہم معدنیات جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا ان شعبوں میں جدید مہارت اور ٹیکنالوجی کا حامل اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ملاقات میں زرعی شعبے میں تعاون خصوصاً کینیڈین کینولا کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات کا جائزہ بھی لیا گیا۔کینیڈین ہائی کمشنر نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ اور سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کے کردار کو سراہا اور پاکستان کی جانب سے کاروباری سہولیات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے، کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس میں فریقین نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاری معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔\








