خطے کی صورتحال کے باعث توانائی کے موجودہ حالات کا سامنا ہے، جونہی گیس کی فراہمی بحال اور پن بجلی کی پیداوار بڑھے گی،لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی ، وفاقی وزیر توانائی
خطے کی صورتحال کے باعث توانائی کے موجودہ حالات کا سامنا ہے، جونہی گیس کی فراہمی بحال اور پن بجلی کی پیداوار بڑھے گی،لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی ، وفاقی وزیر توانائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال کے باعث توانائی کے موجودہ حالات کا سامنا ہے، عوام کو درپیش مشکلات پر معذرت خواہ ہیں، جیسے ہی گیس کی فراہمی بحال اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا،لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی، حکومت نے گزشتہ دو برس میں پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کیں، بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی اور نظام کو موثر انداز میں چلایا جا رہا ہے، دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی صورتحال کافی بہتر ہے، منگلا اور تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث تقریباً 1530 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے 2500 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپریل 2026 سے خلیج کی صورتحال کی وجہ سے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے، اپریل کے پہلے 15 دن میں یومیہ بجلی کی طلب 15 سے 20 ہزار میگا واٹ رہی،پیک آورز میں لوڈ شیڈنگ پر معذرت خواہ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے اندھیروں سے نکالا، دن کے اوقات میں کسی قسم کی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپریل کے مہینے میں بجلی کی پیداوار، ڈیمانڈ اور خلیج کی صورتحال کی بدولت پڑنے والے اثرات پر مبنی حقائق و اعداد وشمار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں ہم نے کم ترین ڈیمانڈ 9000میگاواٹ کا سامنا کیا ہے اور صرف 6دن کے بعد 15اپریل کو 20000میگاواٹ کی ڈیمانڈ ہو جاتی ہے، پچھلے سال اپریل کے مہینے میں پن بجلی سے3200میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ ایل این جی سے 3000میگاواٹ اور فرنس آئل کا نہ ہونے کے برابر استعال کیا گیا کیونکہ اس کا بجلی کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اپریل میں خلیج کی صورتحال کی وجہ سے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے، ان تمام ایل این جی پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 6000میگاواٹ ہے جس میں سے کول گیس سے صرف 500میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے جبکہ پن بجلی سے رواں سال اپریل میں 1600 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ اگر ہمیں ایل این جی دستیاب ہوتی اور پن بجلی بھی بن رہی ہوتی تو ہم اس کمی کو پورا کرپاتے کیونکہ ایل این جی پاور پلانٹس کی کل استعداد 6000 میگاواٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اپریل میں پن بجلی سے 3200 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی تھی جو اس سال کم ہو کر 1671 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ سردار اویس لغاری نے کہا کہ پانی صرف اس وقت ذخائر سے چھوڑا جاتا ہے جب زرعی ضرورت ہو، کیونکہ صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے پانی خارج نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے تمام دستیاب ذرائع بشمول درآمدی و مقامی کوئلہ، نیوکلیئر، پن بجلی اور سولر توانائی استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایل این جی اور پن بجلی کی کمی سے فرق کو کم کرنے کیلئے فرنس آئل کے پلانٹس چلا رہے ہیں تاہم اب بھی ہمیں تقریباً 3400میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے، ہر 500سے 600میگاواٹ کے شارٹ فال پر تقریبا ایک گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے اور 3400میگاواٹ کے شارٹ فال سے ہمیں 6سے 7گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھر پور کوشش کررہے ہیں کہ ایندھن کا بندوبست کیا جائے تاکہ بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے، اس وقت دیہی اور شہری علاقوں میں بلا امتیاز یکساں لوڈ منیجمنٹ کی جارہی ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر صنعتوں کی بجلی بھی عارضی طور پر بند کی گئی۔ کراچی الیکٹرک اور ہیسکو کے علاقوں میں اضافی لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی۔ دن کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ نہیں ہوتی کیونکہ دن کے اوقات میں ہمارے پاس ڈیمانڈ کم اور پیداوار وافر ہوتی ہے۔
صارفین سے درخواست ہے کہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیں،اس وقت ہم ایک بین الاقوامی صور تحال کی وجہ سے ایمرجنسی کی حالت میں ہیں۔ ہمیں بجلی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی تاکہ رات کے اوقات میں بجلی کو کم سے کم بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ ہمارے پاس مختلف ذرائع سے چلنے والے پاور پلانٹس موجود ہیں جو کہ ہماری ہی حکومت کی کاوشوں سے ممکن ہوا ہے۔
آج اگر کوئلے، ہوا، سولر،نیو کلیر، پن اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے نہ لگے ہوتے تو ہماری حالت بہت ہی خراب ہوتی۔ سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات پر معذرت خواہ ہیں، جیسے ہی گیس کی فراہمی بحال ہوگی اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا،لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دو برس میں پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کیں، بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی اور نظام کو موثر انداز میں چلایا جا رہا ہے۔








