لاہور ہائیکورٹ نے تاریخی میو ہسپتال کی 30کنال اراضی پر قبضے کے کیس میں دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالتی حکم پر ریونیو افسران نے سرکاری رپورٹ عدالت میں پیش کردی
لاہور کے تاریخی میو ہسپتال کی 30کنال اراضی پر قبضے کے کیس میں دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ

مزید خبریں
لاہور۔16اپریل (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے تاریخی میو ہسپتال کی 30کنال اراضی پر قبضے کے کیس میں دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالتی حکم پر ریونیو افسران نے سرکاری رپورٹ عدالت میں پیش کردی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ میو ہسپتال کی مجموعی طور پر 101کنال 19مرلے زمین ریکارڈ پر موجود ہے،ریونیو رپورٹ کے مطابق 29کنال 14مرلے زمین پر 90غیر قانونی قابضین موجود ہیں،موضع لاہور خاص میں ہسپتال کی زمین پر 55گھر، 34دکانیں اور ایک سکول غیرقانونی تعمیرات میں شامل ہیں،غیر قانونی قابضین خود کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے کرایہ دار ظاہر کرتے ہیں،وکیل میو ہسپتال نے استدعا کی کہ درخواست گزاروں سے قبضہ واگزار کرایاجائے،درخواست گزار نعمان صدف کے وکیل رانا محمد نسیم صابر نے موقف اپنایا کہ زیر بحث اراضی ٹرسٹ کی ملکیت اور اس کا میوہسپتال سے کوئی تعلق نہیں ہے،میو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، استدعا ہے کہ زمین کو ٹرسٹ کی ملکیت قرار دے کرڈاکٹروں کاقبضہ واگزار کرایا جائے۔








