سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور قائداعظم یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی سے متعلق بل منظور کر لیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور قائداعظم یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی سے متعلق بل منظور کر لیا

اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور قائداعظم یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی سے متعلق بل منظور کر لیا ۔قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف خواتین کیلئے کوٹہ مختص کرنے سے میرٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے تاہم کمیٹی نے اکثریتی رائے سے بل کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں وزارتِ تعلیم کے حکام نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 23 منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن میں 16 جاری منصوبے شامل ہیں جبکہ 7 نئے منصوبوں کیلئے فنڈز درکار ہوں گے۔ حکام کے مطابق جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے 33,432 ملین روپے اور نئے منصوبوں کیلئے 8,279 ملین روپے درکار ہوں گے، یوں مجموعی طور پر 41,711.186 ملین روپے کی ضرورت پیش آئے گی۔ کمیٹی کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ڈگریوں کی تصدیق میں تاخیر سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 775 میں سے 615 ڈگریوں کی تصدیق مکمل کی گئی جن میں جنوری میں 268، فروری میں 207 اور مارچ میں 90 ڈگریوں کی تصدیق شامل ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ایچ ای سی کے کسی بھی ریجنل سنٹر میں تصدیق کا کوئی کیس زیر التوا نہیں۔ ایچ ای سی حکام نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران 173 نئے اور 126 جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ جاری منصوبوں کیلئے 73,850.208 ملین روپے جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 37,200 ملین روپے درکار ہوں گے۔ کمیٹی نے اجلاس میں پیش کی گئی بریفنگز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔