وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی ) کے پاکستانی فریق کا ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سی پیک کے جے سی سی کے پاکستانی فریق کا آن لائن اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی ) کے پاکستانی فریق کا ایک اہم آن لائن اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ وزارتوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ سی پیک 2.0 کے لئے اپنی جامع اور قابلِ عمل سفارشات تین روز کے اندر جمع کرائیں تاکہ آئندہ مرحلے کی منصوبہ بندی کو مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال نے ہر اقتصادی کوریڈور کے لئے علیحدہ کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت بھی دی تاکہ منصوبہ جات پر پیشرفت کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے اور عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سی پیک کے لانگ ٹرم پلان کو 5Cs (کنکٹیویٹی، کمیونیکیشن، کمیونٹی، کمرشل اور کوریڈور ڈویلپمنٹ) اور 5ایز (ایکسپورٹس، ای-پاکستان، انرجی، انوائرمنٹ اور ایکویٹی) فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ منصوبے کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہر وزارت 2 سے 3 فلیگ شپ منصوبے تجویز کرے جو دوطرفہ تعاون کی نئی جہتوں کو اجاگر کریں۔اجلاس کے دوران سی پیک کے تحت زراعت، صنعت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔مزید برآں اہم انفراسٹرکچر منصوبوں بشمول بابوسر ٹنل، ایم-10 موٹروے اور روہڑی-ملتان سیکشن پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے مالیاتی امور کو تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔








