اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایشیا پیسیفک خطے کی معاشی ترقی کو بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی، توانائی بحران اور مہنگائی کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔
ایشیا پیسیفک کی معاشی صورتحال دباؤ کا شکار،اقوام متحدہ کی رپورٹ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔21اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایشیا پیسیفک خطے کی معاشی ترقی کو بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی، توانائی بحران اور مہنگائی کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔شنہوا کے مطابق یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارے ایسکاپ (اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و پیسیفک) نے جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے توانائی اور اجناس کی منڈیوں، تجارت اور ترسیلی راستوں کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں خطے کی ترقی پذیر معیشتوں کی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو 2025 کے 4.6 فیصد سے کم ہے۔ اسی طرح مہنگائی کی شرح بھی بڑھ کر 4.6 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو پہلے 3.5 فیصد تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کی معیشت اگرچہ اب بھی دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی ہے، تاہم اس کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے اندرونی طلب، علاقائی تعاون اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ضروری ہوگا۔
انتونیو گوتریش نے رپورٹ کے دیباچے میں کہا کہ عالمی توانائی بحران اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فوسل فیول پر انحصار عالمی معیشت کو غیر مستحکم بنا رہا ہے، اور توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف منتقلی ناگزیر ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے افراد اور کمزور طبقات مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ بڑھتا ہوا قرض اور بلند شرح سود حکومتوں کی معاشی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں تبدیلی کے دوران اگر مناسب حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو اس سے غربت، عدم مساوات اور مالی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔








