نیوزی لینڈ میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد پر برقرار رہی۔ شنہوا کے مطابق اسٹیٹس این زیڈ کی جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ 2026 تک کی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح گزشتہ سہ ماہی کے برابر رہی تاہم یہ ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ کے 1 سے 3 فیصد کے ہدفی دائرے سے معمولی زیادہ ہے۔
نیوزی لینڈ میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد پر برقرار

مزید خبریں
ویلنگٹن۔21اپریل (اے پی پی):نیوزی لینڈ میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد پر برقرار رہی۔ شنہوا کے مطابق اسٹیٹس این زیڈ کی جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ 2026 تک کی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح گزشتہ سہ ماہی کے برابر رہی تاہم یہ ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ کے 1 سے 3 فیصد کے ہدفی دائرے سے معمولی زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمتیں، جو سالانہ بنیاد پر 12.5 فیصد بڑھیں، مہنگائی کی شرح میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی رہیں اور مسلسل تیسری سہ ماہی میں افراطِ زر کے دباؤ کی قیادت کی۔مقامی اتھارٹی کے ریٹس اور ادائیگیاں، جو 8.8 فیصد بڑھیں، اور گوشت و مرغی کی قیمتیں، جو 8.6 فیصد بڑھیں، بھی اضافے کی بڑی وجوہات رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کرایوں میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ 16 برسوں میں سب سے کم سالانہ اضافہ ہے۔سہ ماہی بنیاد پر مارچ 2026 کی سہ ماہی میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جس میں پیٹرول کی قیمتوں کا سب سے بڑا حصہ تھا جو 3.5 فیصد بڑھیں۔








