چین کی جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے یاسوکونی وار شرائن پر نذرانہ پیش کرنے کی مذمت

چین نے جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے یاسوکونی وار شرائن پر نذرانہ پیش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی جانب سے "جاپانی وزیر اعظم "کے نام سے یاسوکونی وار شرائن پرجس میں دوسری جنگ عظیم کے کلاس اے جنگی مجرموں کے کتبے موجود ہیں، نذرانہ پیش …

بیجنگ۔21اپریل (اے پی پی):چین نے جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے یاسوکونی وار شرائن پر نذرانہ پیش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی جانب سے "جاپانی وزیر اعظم "کے نام سے یاسوکونی وار شرائن پرجس میں دوسری جنگ عظیم کے کلاس اے جنگی مجرموں کے کتبے موجود ہیں، نذرانہ پیش کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین یاسوکونی وار شرائن کے حوالے سے جاپانی فریق کے حالیہ منفی اقدام کی سخت مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے اور جاپانی فریق کے سامنے سخت احتجاج بھی درج کرایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یاسوکونی وار شرائن درحقیقت "جنگی مجرموں کا مزار” ہے۔ اس سال ٹوکیو مقدمات کی 80 ویں برسی بھی ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ 80 سال بعد بھی یاسوکونی وار شرائن میں دوسری جنگ عظیم کے کلاس اے کے جنگی مجرموں کے کتبے موجود ہیں، جن پر جارحیت کی جنگ کی براہ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یاسوکونی وار شرائن کے معاملے پر جاپان کے ایسے منفی اقدامات تاریخی انصاف کی بے حرمتی، جارحیت کے شکار ممالک کے خلاف اشتعال انگیزی اور دوسری جنگ عظیم میں فتح کے ثمرات کے لیےایک کھلا چیلنج ہیں۔

جاپانی حکومت کی جانب سے مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندیوں کی ” نرمی” کے حوالےسے گو جیاکھون نے کہا کہ قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ اور جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دستاویزجیسی بین الاقوامی قانون کی حیثیت رکھنے والی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ جاپان کو مکمل طور پر غیر مسلح رہنا چاہیے اور اسے عسکریت کی جانب دوبارہ نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی تیز رفتار "دوبارہ عسکریت پسندی” ایک حقیقت ہے،جس کے واضح لائحہ عمل اور اقدامات موجود ہیں جن پر عالمی برادری بشمول چین کو انتہائی چوکس رہنا ہوگا۔