وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دنیا کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان کے ثالثی کردار سے دنیا میں اس کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے،پاکستان نے وہ کردار ادا کیا ہے
پاکستان کے ثالث کے کردار سے دنیا میں اس کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے،ہارون اختر

مزید خبریں
لاہور۔24اپریل (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دنیا کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان کے ثالثی کردار سے دنیا میں اس کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے،پاکستان نے وہ کردار ادا کیا ہے جو کوئی اور نہیں کرسکا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پی آئی ایف ڈی میں اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، وائس چانسلر پی آئی ایف ڈی پروفیسرحنا طیبہ، ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شوانہ خلیل، سمیڈا بورڈ ممبر آسیہ ساحل خان، سی ای او سمیڈا نادیہ جہانگیر سیٹھ اور سمیڈا کے جی ایم جینڈر اینڈ سسٹین ایبلٹی شہریار طاہر سمیت اعلی حکام اور کاروباری برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ ہم اپنی برآمدات کو بہتر بنانا رہے ہیں،برآمدات میں اضافہ ہوگا تو دیگر معاشی مسائل بھی کم ہوجائیں گے۔
ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ یہ ایم او یو محض ایک رسمی معاہدہ نہیں بلکہ ویژن اور اقدار کے امتزاج اور کاروبار و تخلیق کے ملاپ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جدت اور کاروبار یکجا ہوتے ہیں تو معیشتیں نہ صرف ترقی کرتی ہیں بلکہ عالمی منڈی میں نمایاں مقام بھی حاصل کرتی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں جدت کرنسی، تخلیق سرمایہ اور ڈیزائن ایک اسٹریٹجک طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب مقدار سے معیار، اور پیداوار سے مسابقت کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جہاں توجہ معیار، برانڈنگ اور عالمی شناخت پر مرکوز ہے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں خصوصا خواتین کاروباری افراد اور مائیکرو انٹرپرائزز میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم اصل مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ مارکیٹس، نیٹ ورکس اور مواقع تک رسائی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اسی خلا کو پر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ابھرتے کاروباروں کو بہتر ڈھانچہ، پہچان اور آواز فراہم کی جا سکے۔انہوں نے سمیڈا اور پی آئی ایف ڈی کے اشتراک کو ایک اسٹریٹجک تعاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو تخلیقی اور ڈیزائن مہارتوں سے جوڑنا ہے۔
اس اقدام کے تحت مصنوعات کی ترقی، مینوفیکچرنگ کی بہتری، برانڈنگ و پیکجنگ کا فروغ، ڈیجیٹل رسائی اور کاروباروں کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔ہارون اختر خان نے خواتین کے معاشی استحکام کے حوالے سے حکومتی عزم کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ مجوزہ نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی کاروباری ماحول میں انقلابی تبدیلی لائے گی۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ یہ اقدام واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کے ایس ایم ایز، نوجوان اور خواتین عالمی سطح پر قیادت اور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے سمیڈا اور پی آئی ایف ڈی کو اس بروقت اقدام پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اشتراک روزگار کے مواقع، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دے گا۔ایم او یو کے تحت تین سالہ نیشنل پروڈکٹ ڈیویلپمنٹ سپورٹ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا جو خواتین اور مائیکرو انٹرپرائزز پر مرکوز ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، جدت کو فروغ دینا اور ایس ایم ای سیکٹر کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔اس اشتراک سے مصنوعات کے معیار، پیداواری کارکردگی، ڈیجیٹل شمولیت اور مالیاتی رسائی میں نمایاں بہتری کی توقع ہے، جو ملک میں جامع معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
قبل ازیں سمیڈا کے جی ایم جینڈر اینڈ سسٹین ایبلٹی شہریار طاہر اور پی آئی ایف ڈی کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد افضل نے ایم او یو پر دستخط کیے۔








