صدر مملکت نے بنوں میں خطاب کے دوران 2008 ءسے 2013 ءکے دوران اس وقت کی حکومت کی طرف سے لیے گئے قرضوں کا ذکر کیا تھا ترجمان ایوان صدر کی وضاحت اسلام آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی)ترجمان ایوانِ صدر نے گزشتہ روز بنوں میں صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب کے حوالے سے روزنامہ "ایکسپریس" کی رپورٹنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر …
ترجمان ایوان صدر کی وضاحت

مزید خبریں
صدر مملکت نے بنوں میں خطاب کے دوران 2008 ءسے 2013 ءکے دوران اس وقت کی حکومت کی طرف سے لیے گئے قرضوں کا ذکر کیا تھا
ترجمان ایوان صدر کی وضاحت
اسلام آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی)ترجمان ایوانِ صدر نے گزشتہ روز بنوں میں صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب کے حوالے سے روزنامہ "ایکسپریس” کی رپورٹنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں موجودہ حکومت کی طرف سے قرضوں کے حوالے سے ایسی کوئی بات قطعاً نہیں کہی جو بادی النظر میں اس خبر سے اخذ ہوتی ہے۔ جمعرات کو ایک بیان میں ترجمان ایوان صدر نے کہا کہ صدر مملکت نے 2013 ء سے 2017 ءکے دوران میں حکومت کی طرف لیے گئے قرضوں کی کسی مقدار کا ذکر نہیں کیا تاہم انہوں نے2008 ءسے 2013 ءکے دوران اس وقت کی حکومت کی طرف سے لیے گئے قرضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں کہ ان رقوم سے ملک میں کون سے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔ ترجمان ایوانِ صدر نے کہا کہ مذکورہ اخبار کی خبر تضاد پر مبنی ہے جس کے ابتدائیے میں موجودہ حکومت پر بھاری قرضے حاصل کرکے کوئی ترقیاتی منصوبہ نہ بنانے کی بات کہی گئی ہے جبکہ اسی خبر کے آخری حصے میں موجودہ دور حکومت میں دیامر بھاشا اور داسو ڈیم کی تعمیر کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا ذکر ہے جس سے خبر کا تضاد واضح ہوتا ہے۔صدر مملکت نے اپنی تقریرمیں واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حکومت کو2013ء میں 14 ہزار8 سو ارب روپے کے قرضے ورثے میں ملے تھے۔ عوام کو پوچھنا چاہیے کہ یہ قرضے کس ترقیاتی منصوبے پر خرچ کیے گئے۔ صدر مملکت نے مزید کہا تھا کہ 2013 ء سے 2017ءتک ملک میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوا جن میں دیامر بھاشا اور داسو ڈیمز سمیت بجلی کی پیداوار کے بہت سارے منصوبے شامل ہیں جن سے2018ءتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی یا برائے نام رہ جائے گی۔








