لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران ٹریفک اور ماحولیاتی مسائل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نئے سی ٹی او لاہور کو ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بہتر بنانے کا حکم دیا ہے
لاہور ہائیکورٹ کا سموگ تدارک کیس، ٹریفک نظام بہتر بنانے کا حکم

مزید خبریں
لاہور۔30اپریل (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران ٹریفک اور ماحولیاتی مسائل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نئے سی ٹی او لاہور کو ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بہتر بنانے کا حکم دیا ہے کہ ٹریفک کی روانی کو ترجیح دی جائے، شہریوں کا بلاوجہ چالان نہ کیا جائے ۔عدالت نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا بھی حکم دے دیا، اور واضح کیا کہ سموگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کی جس میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ۔ جمعرات کے روز دوران سماعت متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے نشاندہی کی کہ مال روڈ پر زیبرا کراسنگ پر کھڑی گاڑیوں کو نہیں روکا جاتا، جس سے ٹریفک نظام متاثر ہو رہا ہے۔عدالت نے کہا کہ مسائل کو چھپانے کے بجائے ان کا حل نکالا جائے۔ عدالت نے پی ایچ اے کو درختوں کی کٹائی پر آگاہی مہم شروع کرنے اور شہر کے پارکس کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے7 مئی تک عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔








