پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد۔1مئی (اے پی پی):ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پی اے سی اے) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) بلوچستان کے درمیان جمعہ کو ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد کے وژن کی روشنی میں اس شراکت داری کا مقصد اداروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور پیشہ ورانہ تربیت میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

اس معاہدے پر ڈائریکٹر جنرل پی اے سی اے غلام صفدر شاہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن بلوچستان نصیب اللہ کاکڑ نے دستخط کیے۔یہ مفاہمتی یادداشت کئی اہم شعبوں میں تعاون کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتی ہے جس میں بلوچستان کے اینٹی کرپشن افسران کے لیے خصوصی پیشہ ورانہ تربیت، مالیاتی جرائم کی تحقیقات کے بہترین طریقوں کا تبادلہ اور جدید فرانزک و تفتیشی آلات کا استعمال شامل ہے۔

دستخط کی تقریب کے بعد ڈی جی اینٹی کرپشن بلوچستان نے پی اے سی اے کی جدید سہولیات بشمول فرانزک سائنس لیبارٹری، ہائی ٹیک لیکچر رومز اور لائبریری کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنے محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید تفتیشی تکنیکوں اور قانونی حکمت عملیوں سے فائدہ اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی اے سی اے غلام صفدر شاہ نے کہا کہ اکیڈمی مالیاتی جرائم کے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تفتیش کاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے پرعزم ہے ۔

ڈی جی اینٹی کرپشن بلوچستان نصیب اللہ کاکڑ نے اکیڈمی کے تربیتی ماحول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ہی بدعنوانی کے خاتمے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون سے بلوچستان کے افسران کی مہارتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ شراکت داری ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید دور کے مطابق فرانزک اور قانونی مہارت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔