فنِ تعمیر کسی بھی قوم اور تہذیب کی پہچان ہے،جدید عمارتوں میں سہولت، رسائی اور انسانی ضرورتوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے،احسن اقبال

فنِ تعمیر کسی بھی قوم اور تہذیب کی پہچان ہے،جدید عمارتوں میں سہولت، رسائی اور انسانی ضرورتوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے،احسن اقبال

اسلام آباد۔1مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ فنِ تعمیر کسی بھی قوم اور تہذیب کی پہچان ہوتی ہے،جدید عمارتوں میں سہولت، رسائی اور انسانی ضرورتوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان کنونشن و نمائش 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے کہاکہ فنِ تعمیر کسی بھی قوم اور تہذیب کی پہچان ہوتی ہے۔

بادشاہتیں ختم ہو جاتی ہیں مگر الحمرا، قرطبہ، بادشاہی مسجد اور تاج محل جیسی عمارات اپنی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔ آرکیٹیکچر کسی قوم کے لیے لافانی شناخت اور اس کے تشخص کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے کئی شہروں کی پہچان ان کی منفرد تعمیرات سے ہیں۔ فنِ تعمیر صرف بلند عمارتوں کا نام نہیں بلکہ طرزِ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جدید عمارتوں میں سہولت، رسائی اور انسانی ضرورتوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ بہترین ڈیزائن اور اسپیس نہ صرف فعالیت بڑھاتے ہیں بلکہ لوگوں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔

احسن اقبال نے کہاکہ آرکیٹیکچر دراصل فن تعمیر کی شاعری ہے جو کسی شہر اور قوم کی شناخت بن جاتی ہے۔ ہم نے گزشتہ برسوں میں اپنے تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا، جسے دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کبھی اپنی منفرد پیلے پتھر کی تعمیرات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، آج وہ شناخت ماند پڑ چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید رجحانات کے ساتھ مقامی ثقافت اور علاقائی شناخت کو فروغ دینا ضروری ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ماحول دوست تعمیرات پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ ہر فرد کو باعزت رہائش فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے حکومت مورگیج فنانسنگ کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہاؤسنگ کے شعبہ میں کم لاگت کے گھروں کو فروغ دینے کے لئے آرکیٹیٹس کو کام کرنا چائیے۔ تعمیراتی میٹریلز اور طرز میں جدت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آرکیٹیکٹس اور کنسٹرکشن کمپنیوں کا باہمی اشتراک تعمیراتی معیار کو بلند کر سکتا ہے۔