ڈی-ایٹ ممالک کا ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیز کرنے پر زور

ڈی-ایٹ ممالک کا ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیز کرنے پر زور

اسلام آباد۔1مئی (اے پی پی):ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون (ڈی ۔ایٹ) نے رکن ممالک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترقی، جدت اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے ایک مربوط روڈ میپ پر عملدرآمد کو تیز کرنے پر زور دیا ہے۔یہ عزم ڈی ایٹ کے ایس ایم ایز سے متعلق حکومتی اداروں کے نویں اجلاس کے دوران ظاہر کیا گیا، جس کی میزبانی نائیجیریا کے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ ایجنسی نے ورچوئل طور پر کی۔

اجلاس میں رکن ممالک کے متعلقہ اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز دنیا بھر میں، بالخصوص ڈی ایٹ ممالک میں، اقتصادی ترقی کے بنیادی محرک ہیں۔ انہوں نے روزگار کی فراہمی اور جدت کے فروغ میں ان اداروں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں بھی ان کی اہمیت ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو 2030 تک 500 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے حصول میں ایس ایم ایز کا کردار نہایت اہم ہوگا جبکہ 2024 میں یہ حجم 157 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔سفیر سہیل محمود نے اپنی گفتگو میں بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی امور کے شعبہ (یو این ڈی ای ایس اے) اور اقوام متحدہ کے صنعتی ترقیاتی ادارے کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ایس ایم ایزکے نظام میں شامل کرنے اور رکن ممالک کے درمیان علم کے تبادلے کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے ملائیشیا کی جانب سے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے عالمی دن کے موقع پر گرین ایم ایس ایم ایز اور میڈیکل ٹورازم کے موضوع پر تعاون کی تجویز کو سراہا۔اجلاس میں ڈی ایٹ کے تحت ایس ایم ای تعاون کے فریم ورک کو مؤثر بنانے، مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد، اور ڈی ایٹ ایس ایم ای سینٹر کو ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

سیکرٹری جنرل نے آذربائیجان اور نائیجیریا کی جانب سے پیش کیے گئے ایکشن پلانز کو سراہتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر تکنیکی اجلاس منعقد کرکے ان منصوبوں کو حتمی شکل دیں تاکہ آئندہ (10ویں) اجلاس میں ان کی باضابطہ منظوری دی جا سکے۔اجلاس میں مختلف ممالک کی جانب سے ایم ایس ایم ایز کی رجسٹریشن، مالی وسائل تک رسائی، منڈیوں تک رسائی اور استعداد کار بڑھانے سے متعلق اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس اس اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ مربوط حکمت عملی، مسلسل رابطہ کاری اور طے شدہ ایکشن پلانز پر بروقت عملدرآمد کے ذریعے نہ صرف ایس ایم ایز کے شعبے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ ڈی ایٹ ممالک میں باہمی تجارت اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔