اربوں کی سرکاری اراضی پر قبضے کا باب بند کرنے کا فیصلہ، ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم ہوگی، طلال چوہدری

اربوں کی سرکاری اراضی پر قبضے کا باب بند کرنے کا فیصلہ، ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم ہوگی، طلال چوہدری

فیصل آباد ۔ 01 مئی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں، تجاوزات اور لیز کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن حکمت عملی اختیار کر لی ہے اور ریاستی رٹ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ایسا کوئی شخص، گروہ یا کمپنی قانون سے بالاتر نہیں رہے گی، خواہ اس کے سیاسی، مالیاتی یا انتظامی حلقوں میں کتنے ہی مضبوط روابط کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ قومی اثاثوں پر غیر قانونی قبضے اور ان کے غلط استعمال کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس ضمن میں بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔

ملکی صورتحال اور اسلام آباد میں ”ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو“ سے متعلق حالیہ پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے قلب میں واقع اربوں روپے مالیت کے متنازعہ منصوبہ”ون کونسٹیٹیوشنل ایونیو“ کے معاملے میں عدالت کے تازہ فیصلے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ریاست پاکستان ناجائز قبضوں اور خلاف ضابطہ تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے پرعزم ہے اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اپنے حالیہ اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک میں کوئی بھی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں، چاہے وہ کچی آبادی کا رہائشی ہو یا اربوں روپے کے منصوبے کا مالک۔ انہوں نے کہا کہ ”ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو“ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف بااثر عناصر نے قانونی سقم، اثر و رسوخ اور تاخیری حربوں کے ذریعے ریاستی رٹ کو چیلنج کیے رکھا مگر اب ناجائز قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کسی دباؤ، سفارش یا سیاسی مصلحت سے متاثر نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ”ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو“ سے متعلق گردش کرنیوالی خبروں کے باعث ضروری ہو گیا تھا کہ قوم کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں تاکہ عوام جان سکیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قومی وسائل کے ساتھ کس طرح کھیل کھیلا جاتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی کہانی 2005 سے شروع ہوتی ہے جب حکومت نے اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے فائیو سٹار ہوٹل اور سروس اپارٹمنٹس کی تعمیر کے لیے اہم مقامات کو لیز پر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت نے غیر ملکی مہمانوں، سرکاری وفود اور بین الاقوامی تقریبات کے تناظر میں جدید رہائشی و ہوٹل سہولیات کی ضرورت محسوس کی تھی، تاہم بعد ازاں اس منصوبے کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا کر ذاتی مفادات کی نذر کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بسم اللہ، نیاگرا اور پیراگون نامی کمپنیوں پر مشمل ایک کنسورشیم ”بی این پی“ نے تقریباً 4.8۔ ارب روپے میں اس اراضی کو حاصل کیا تاہم بعد میں لیز معاہدے کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف منصوبے کے مقصد کو تبدیل کیا گیا بلکہ اسے مزید مختلف کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرحلے پر اس اراضی کو ایلیٹ ہوم فیشن نامی کمپنی کو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کا نام بھی تبدیل کرایا گیا تاکہ اصل حقائق اور ذمہ داریوں کو چھپایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لیز کی شرائط کے مطابق اس اراضی پر عالمی معیار کا ہوٹل تعمیر کیا جانا تھا مگر اس مقصد سے انحراف کرتے ہوئے یہاں 253 رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کیے گئے جو لیز معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف اراضی کے استعمال کی نوعیت تبدیل کی گئی بلکہ ادائیگیاں مکمل کیے بغیر زمین کو بینک آف پنجاب کے پاس رہن رکھ کر تقریباً 3.5۔ ارب روپے قرض بھی حاصل کیا گیا۔ بعدازاں کمپنی دیوالیہ قرار دے دی گئی جبکہ قومی اثاثہ قانونی پیچیدگیوں کی نذر ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ متعلقہ کمپنی نے دو مرتبہ ادائیگی کو ری شیڈول کرایا، سی ڈی اے کے متعدد نوٹسز کو نظرانداز کیا اور مسلسل قانونی و انتظامی نظام کا مذاق اڑایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کنسورشیم نے ریاستی اداروں کے صبر اور قانونی تقاضوں کو اپنی کمزوری سمجھا، تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ 2015ء میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں جبکہ بعدازاں مختلف عدالتوں میں اس کیس کی سماعت ہوتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کو تمام فریقین کا موقف سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد 2016ء میں سی ڈی اے نے لیز منسوخ کرتے ہوئے اراضی کا قبضہ واپس لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء میں بھی عدالت نے سی ڈی اے کے موقف کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ بعد کے بعض فیصلوں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر طول دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں انصاف کے منصب پر فائز کچھ شخصیات نے ایسے فیصلے کیے جن سے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے برخلاف دئیے گئے بعض فیصلوں نے نہ صرف قانونی عمل کو متاثر کیا بلکہ طاقتور حلقوں کو مزید حوصلہ دیا۔ وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں ایسے بااثر اور بڑے نام ملوث ہیں جن کے سامنے آنے پر قوم حیران رہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے اپنے اثرورسوخ، سیاسی تعلقات اور مالی طاقت کے ذریعے ریاستی اداروں کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں بارہا قانونی کارروائیاں ہوئیں جن میں 2016 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے لیز معاہدہ منسوخ کر کے منصوبے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر عدالتی فورمز پر بھی اس معاملے کی سماعت ہوتی رہی اور متعدد فیصلے حکومت کے مؤقف کے حق میں آئے۔ حالیہ فیصلہ اس سلسلے کی چوتھی بڑی عدالتی توثیق ہے جس میں سی ڈی اے کے اقدامات کو درست قرار دیا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حالیہ دنوں میں عمارت پر”قبضہ“ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی ڈی اے 2023 سے اس عمارت کے کنٹرول میں ہے اور حالیہ پیش رفت محض عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور عوامی آگاہی کے لیے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ اراضی کی اصل مالیت ساڑھے سترہ ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے جبکہ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق تیرہ ایکڑ سے زائد اس قیمتی رقبے کی مالیت تقریباً اڑھائی سو ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کے اتنے بڑے اثاثے کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ طلال چوہدری نے بتایا کہ 253 غیر قانونی اپارٹمنٹس میں سے 184 اس وقت خالی ہیں جبکہ باقی کے حوالے سے بھی قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ کمپنی نے نہ صرف لیز کی شرائط کی خلاف ورزی کی بلکہ تیسرے فریق کے ساتھ بھی مبینہ دھوکہ دہی کی جس سے سرمایہ کاروں اور خریداروں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت کی تعمیر ایک چینی ادارے نے بی این پی کمپنی کیلئے کی جبکہ اس کمپنی کے مالک کے متعدد تنازعات پہلے ہی منظرعام پر آ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کا مذاق اڑانے والوں کو اب ہر صورت جوابدہ ہونا پڑے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں متعدد وزرائے داخلہ اور وزارت داخلہ کے مختلف ادوار اس معاملے میں حتمی کارروائی نہ کر سکے، تاہم موجودہ حکومت نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی سرکاری زمینوں کو کم قیمت پر مخصوص افراد کے حوالے کرنے اور ان کے ذریعے سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی روش اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

چاہے معاملہ اسلام آباد کا ہو یا ملک کے کسی دوسرےعلاقے کا، سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ ریاستی رٹ کے قیام کے بغیر ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی اعتماد کا فروغ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقتور مفادات کے اس طویل کھیل کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے اور قانون کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے تاکہ قومی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اس کیس میں متعدد فریقین کے درمیان تنازعات بھی سامنے آئے جن میں تعمیراتی کمپنی، مارکیٹنگ فرم، بینک اور دیگر شراکت دار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی شہری بھی اس منصوبے میں دھوکہ دہی کا شکار ہوئے تاہم حکومت نے ایسے متاثرین کے لیے ”ون ونڈو گریوینس سیل“ قائم کر دیا ہے جہاں وہ اپنے دعوے جمع کرا سکتے ہیں اور انہیں عدالتی فیصلوں کے مطابق ریلیف فراہم کیا جائے گا۔